دورۂ قادیان 1991ء — Page 179
179 پیش کرنا ہے جماعت کو دیں تا کہ ایک مربوط طریق پر منظم منصوبے کے ساتھ جو جوضرورتمند ہیں ان کو یہ چیزیں پہنچائی جائیں اور ان کی عزت نفس پر کوئی ٹھیس نہ آئے ، ورنہ انفرادی طور پر جب کوئی انسان کسی غریب کی خدمت کرتا ہے تو لینے والے کی آنکھ جھکتی ہے خواہ وہ چیز کتنی ہی محبت سے پیش کی جائے۔پس خدا تعالیٰ نے بہت فضل فرمایا اور اس نصیحت پر عمل کرتے ہوئے تمام دنیا کے احمدیوں نے اپنے تحائف مرکز کی معرفت بھجوائے اور بہت بڑی رقوم اس سلسلہ میں اکٹھی ہوئیں جن کے نتیجہ میں جو بھی خدمت کی جاسکی ہے وہ ٹھوس ہے اور مختلف رنگ کے مختلف طبقات کے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے عارضی اور بعض دفعہ مستقل ضرورتیں پوری کرنے کے سامان مہیا ہوئے۔آئندہ کے لئے میں سمجھتا ہوں کہ اس قسم کی امداد کی ضرورت کو ختم کرنا سب سے اہم خدمت ہے۔جب ضرورت ہو امداد کرنا لازم ہے اور یہ جماعت کے عالمی فرائض میں داخل ہے لیکن قرآن کریم نے خدمت خلق کا جو اعلیٰ تصویر پیش کیا ہے وہ یہ ہے کہ ضرورت اٹھا دو اور کسی شخص کو محتاج نہ رہنے دو بجائے اس کے کہ وہ باہر مدد کے لئے دیکھتا ر ہے۔وہ اس نظر سے باہر دیکھے کہ کون محتاج ہے جس کی وہ ضرورت پوری کرے۔یہ اعلیٰ شان کی خدمت کی وہ تعلیم ہے جو قرآن کریم میں ملتی ہے اور جس پر حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم نے نہایت ہی حسین رنگ میں عمل کر کے دکھایا ہے۔پس یہ دوسرا حصہ ہے جو میرے نزدیک بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے اور عالمگیر جماعت احمدیہ کو اب اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔اس ضمن میں ہندوستان کے جو تاجر ہیں اور ہندوستان کے Industrialist ہیں ان کے متعلق میں وہاں ہدایات دے آیا ہوں۔وہ انشاء اللہ تعالیٰ قادیان کی اقتصادی بحالی کے لئے پوری کوشش کریں گے لیکن باہر کی دنیا سے بھی کثرت سے لوگ وہاں جاسکتے ہیں اور ہندوستانی قوانین کا لحاظ رکھتے ہوئے وہاں کئی قسم کی صنعتیں قائم کر سکتے ہیں۔اس کی طرف آنے سے پہلے ایک رؤیا میں بھی اشارہ ہوا جس کی اور بہت مبارک تعبیروں میں سے ایک یہ بھی تعبیر ہے کہ باہر کی دنیا کے صنعتکاروں اور صاحب حیثیت احمدیوں کو قادیان میں خدمت کی توفیق ملے گی۔جس دن میں نے قادیان سے روانہ ہونا تھا اس صبح کو رویا میں دیکھا کہ چوہدری شاہ نواز صاحب مرحوم مغفور بہت ہی اچھی صحت میں اور بہت خوبصورت دکھائی دینے والے قادیان آتے ہیں