دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 177 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 177

177 اسلام اور احمدیت کے اعلیٰ مستقبل کے لئے وقف کر دیتا ہے اور آئندہ مستقبل میں ہونے والے واقعات اس کی سوچوں کا ایک ایسا حصہ بن جاتے ہیں جواس کے دل کی فکریں ہوتی ہیں اس کے دماغ کے تفکرات ہیں کہ خدا جانے کیا ہو اور کیسا ہو اور میں اپنے فرائض سرانجام دے سکوں یا نہ دے سکوں۔یہ وہ دلچسپی ہے جس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کا پوچھتے ہو تو بتاؤ کوئی تیاری بھی کی ہے۔تو جماعت کو اگر قادیان کی واپسی میں اور جماعت کے عالمگیر انقلاب میں کوئی دلچسپی ہے تو اس کی تیاری کرنی ہوگی اور قادیان کے سلسلہ میں ابھی بہت کام باقی ہیں۔جو کچھ خوشخبریاں سطح پر نظر آئی ہیں اور عام آنکھوں نے دیکھ لی ہیں ان کی مثال تو Iceberg کے اس تھوڑے سے حصے سے ہے جو طح سمندر پر دکھائی دیتا ہے۔اس کا اصل حصہ تو پانی میں ڈوبا ہوتا ہے یعنی برف کا تو دہ جو سمندر میں تیرتا ہے اس کی تھوڑی سی Tip تھوڑی سی چوٹی ہے جو سمندر سے باہر نظر آتی ہے۔ایک دفعہ پہلے بھی میں نے یہ مثال دی تھی جس پر ہندوستان کے سفر میں ایک احمدی دوست نے مجھے توجہ دلائی کہ میں غلطی سے ایک اور تین کی نسبت بہتا بیٹھا۔میں ان کا ممنون ہوں کہ انہوں نے مجھے توجہ دلائی کہ ایک اور تین کی نسبت نہیں ہے بلکہ برف کی کثافت پانی کے مقابل پر جتنی کم ہے اسی نسبت سے اس کا ایک حصہ پانی سے اوپر نکلتا ہے اور غالباً یہ دس میں سے ایک حصہ باہر ہوتا ہے اور نو حصے اندر کیونکہ برف کی کثافت پوائنٹ نائن (۹) ہے یعنی پانی کی کثافت اگر ایک ہے تو برف پوائنٹ نائن ۹ ہے یعنی حجم اس کا زیادہ اور وزن کم تو جس نسبت سے وزن کم ہو گا اسی نسبت سے اس کا ایک حصہ باہر نکلا ہوگا تو بعض دفعہ باہر نکلے ہوئے حصے بھی بہت بڑے بڑے دکھائی دیتے ہیں۔سمندر میں سفر کرنے والے جانتے ہیں یعنی جن کا کام شمال اور جنوب میں جانا ہے اور وہ ان باتوں کے متعلق اپنی زندگی کے واقعات میں بڑے دلچسپ انداز میں تذکرے بھی کرتے رہتے ہیں کہ بعض دفعہ پانی میں سے برف کا اتنا بلند پہاڑ اونچا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ آدمی حیرت اور استعجاب میں ڈوب جاتا ہے لیکن انسان اگر یہ سوچے کہ اس سے ۹ حصے زیادہ پانی کے اندر ڈوبا ہوا وہ پہاڑ ہے تو اور بھی زیادہ ہیت بڑھتی ہے۔تو یہ خوشخبریاں بھی جب پوری ہوتی ہیں تو ان کا ایک حصہ باہر دکھائی دے رہا ہوتا ہے