دورۂ قادیان 1991ء — Page 152
152 بعد از میں حضرت خلیفہ مسیح الرابع درمیان کے راستہ سے جب مسجد سے باہر جانے کے لئے محراب سے اٹھ کر صفوں کے آخر میں تشریف لائے تو وہاں مکرم فضل الہی خان صاحب درویش سے فرمایا کہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی تو دروازے سے دائیں جانب جنوبی دیوار کے ساتھ ساتھ گزرکر اگلی صف میں سے ہوتے ہوئے محراب میں آیا کرتے تھے۔مکرم فضل الہی خان صاحب اور مکرم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب نے اس کی تصدیق کی تو حضور نے فرمایا کہ آئندہ ( محراب میں آنے کے لئے ) سے یہی راستہ ہونا چاہئے۔اس کے بعد آپ اپنی قیامگاہ میں تشریف لے گئے۔نماز مغرب وعشاء سے قبل حضور انور مکرم عبدالعظیم صاحب درویش کی درویش خوشدامن محترمہ سیدہ مبارکہ بیگم صاحبہ اہلیہ سید محمود علی مرحوم کی عیادت کیلئے اُن کے گھر تشریف لے گئے۔وہ انتہائی کمزوری اور ضعف کی حالت میں تھیں اور ان پر نیم بیہوشی کی کیفیت تھی۔آپ تقریباً دس منٹ وہاں بیٹھے رہے اور ان کے حال احوال کے بارہ میں دریافت فرماتے رہے۔وہاں سے آپ مکرم مولوی محمد عبد اللہ صاحب درویش کے گھر تشریف لے گئے۔وہ بھی آنکھوں میں موتیا اتر آنے اور بیماری کی وجہ سے کمزور تھے۔حضور نے ان کے کمرے میں قدم رنجہ فرمایا تو وہ بستر سے اٹھ کر ملنے کے لئے تیار ہی تھے کہ آپ نے آگے بڑھ کر اس حالت میں کہ وہ ابھی آدھے ہی اٹھے تھے ، اُن سے معانقہ کر لیا۔وہاں ان کی چار پائی پر ہی حضور انور تقریباً پندرہ منٹ تشریف فرمار ہے۔اس کے بعد نماز مغرب وعشاء کے لئے مسجد مبارک میں تشریف لائے۔نمازوں کے معاً بعد حضور انور کی موجودگی میں مکرم سید عبدالحئی شاہ صاحب ناظر اشاعت ربوہ نے نکاحوں کا اعلان کیا اور دعا کرائی۔مورخه ۱۲ جنوری ۱۹۹۲ء بروز اتوار۔قادیان صبح نماز فجر کے بعد حضرت صاحب بہشتی مقبرہ میں تشریف لے گئے مبارک مزاروں پر دعا کے بعد جلسہ گاہ والے میدان میں سے ہوتے ہوئے احمد یہ چوک کی طرف آئے اور راستے میں مکرم شریف احمد ڈوگر صاحب درویش اور مکرم فضل الہی خان صاحب درویش کے گھر گئے۔وہاں سے نکل