دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 153 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 153

153 کر احمد یہ چوک سے ہوتے ہوئے ، دار مسیح کے سامنے سے گزر کر سیدھے چلے گئے اور مکرم بشیر احمد شاد صاحب در ولیش اور مکرم فتح محمد صاحب نانبائی درویش کے گھروں میں گئے۔مکرم شاد صاحب مذکور کچھ عرصہ پہلے شدید بیمار تھے اور امرتسر ہسپتال میں زیر علاج تھے۔جب آپ کو حضور کی تشریف آوری کا علم ہوا تو آپ ڈاکٹروں کو بتائے بغیر قادیان آگئے کہ اب اگر یہاں رہا تو اور بھی بیمار ہو جاؤں گا۔کم از کم زندگی میں حضور سے ملاقات تو ہو جائے گی۔اس کے بعد آپ دار ا مسیح میں اپنے گھر تشریف لائے۔آج صبح قادیان سے باہر مختلف مقامات کی سیر کا پروگرام تھا چنانچہ حضور انور آٹھ بجے دفتر تشریف لائے۔بعض دفتری کاموں اور ملاقاتوں کے بعد صبح سوا نو بجے گیارہ گاڑیوں پر مشتمل قافلہ دار اسیح سے روانہ ہوا۔اس میں چھ گاڑیاں حضور کے خاندان اور اراکین قافلہ اور قادیان کے خدام کی تھیں۔جبکہ باقی پانچ گاڑیاں پولیس اور سیکیورٹی کے عملہ کی تھیں۔یہ قافلہ قادیان سے نکل کر بھینی طغل والا اور گھوڑے واہ سے ہوتا ہوا راج پورہ پہنچا۔راج پورہ حضرت مصلح موعودؓ کی زمینوں پر آباد چھوٹا سا گاؤں (ڈیرہ) ہے۔یہ زمینیں تقسیم ملک کے بعد سکھوں کو منتقل ہو گئی تھیں۔اس وقت نہ وہ مکان باقی رہے تھے جن سے حضرت مصلح موعود کی یادیں وابستہ تھیں اور نہ ہی ان کے مکینوں میں سے کوئی باقی تھا۔سب نئے لوگ اور نئی عمارتیں تھیں۔البتہ نئے لوگوں کے پاس پرانی یادیں ضرور تھیں۔چنانچہ انہوں نے حضور انور کے قدم لئے ، بڑی محبت اور چاہت سے ملے۔آپ نے اُن سے چند لمحے باتیں کیں اور ان کے بچوں میں چاکلیٹ اور ٹافیاں وغیرہ تقسیم کیں۔آپ وہاں پندرہ میں منہ ظہر کر پھیر واچی آئے۔پھیر پیچی تقسیم ملک سے قبل احمد ہوں کا گاؤں تھا اور اب وہاں کلیہ سکھوں کی آبادی ہے۔حضورانور کی کار جب وہاں پہنچی تو وہاں کے لوگ دل و نظر فرش راہ کئے ہوئے پائے۔وہ فورا کار کی طرف لپکے۔آپ کی کارڑ کی تو کار کے شیشے میں سے آپ کے بالکل قریب ہو کر خوش آمدید کہنے لگے۔وہ اتنے خوش تھے کہ پھولے نہ سماتے تھے۔ایک بڑی عمر کا شخص کہنے لگا کہ پہلے آپ لوگوں نے یہاں سکول وغیرہ قائم کئے تھے جن کی وجہ سے