دورۂ قادیان 1991ء — Page 151
151 یہاں یہ بات بھی قابل ذکر معلوم ہوتی ہے کہ اس روز یعنی جمعۃ المبارک ۱۳ارز والحجم ۱۳۴۲ھ 66 بمطابق ۱۳ مارچ ۱۹۰۳ء کو ہی اپنے دست مبارک سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مینارة المسح ، کی بھی بنیاد رکھی تھی۔بیت الدعا کے ساتھ والا مشرقی کمرہ جسے دالان بھی کہا جاتا ہے ، بہت تاریخی اور مقدس ہے۔اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی عمر کا آخری زمانہ گزارا اور بعد میں حضرت اماں جان یہیں رہیں۔یہاں حضور علیہ السلام کو بہت سے الہامات ہوئے۔بلکہ حضرت اماں جان تو اسے بیت الفکر میں شامل کہا کرتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اسے بیت الفکر کا حصہ شمار فرماتے تھے۔(مکتوب بنام حضرت بھائی عبدالرحمن قادیانی از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب) حضور انور نے آج نماز ظہر و عصر مسجد مبارک میں پڑھائیں۔بیت الفکر کے سامنے سے گزر کر حضور مسجد مبارک میں تشریف لائے اور صفوں کے پیچھے سے ہوتے ہوئے عین محراب کے سامنے سے محراب میں تشریف لے آئے۔نماز ظہر و عصر جمع ہوئیں۔نمازوں کے بعد حضور انور محراب میں ہی تشریف فرمار ہے اور مکرم ڈاکٹر محموداحمد بٹ صاحب کے بارہ میں استفسار فرمایا کہ آیا وہ دہلی سے قادیان تشریف لے آئے ہیں یا نہیں۔ڈاکٹر محمود احمد صاحب ، مکرم محمد ایوب بٹ صاحب در ولیش قادیان کے بیٹے ہیں اور ایک نو جوان اور بہت سمجھدار ڈاکٹر ہیں۔انہیں دہلی میں ۴ /جنوری تا ۰ ار جنوری کے قیام کے دوران حضرت خلیفہ اسیح اور حضرت بیگم صاحبہ کے علاج کی سعادت نصیب ہوئی تھی۔ڈاکٹر صاحب گزشتہ رات کی ٹرین پر دہلی سے قادیان پہنچ گئے تھے۔حضورانور نے جب اُن کے بارہ میں دریافت فرمایا تو وہ فوراً خدمت اقدس میں حاضر ہو گئے۔حضورانور نے ڈاکٹر صاحب سے چند دو یہ حاصل کیں اور مکرم ڈاکٹر جعفر علی صاحب کے بیٹے کی صحت کے بارہ میں دریافت فرمایا۔نیز مکرم بشیر احمد خان رفیق صاحب ایڈیشنل وکیل التصنیف لندن کی صحت کے بارہ میں رپورٹ طلب فرمائی۔بشیر احمد رفیق صاحب آج صبح کے اور چکر آجانے کی وجہ سے بیمار تھے۔بعد دو پہر اُن کی طبیعت بہتر ہوگئی تھی۔