دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 147 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 147

147 مورخه ۱۱/جنوری ۱۹۹۲ء بروز ہفتہ۔قادیان دارالامان حضرت خلیفتہ امی نے نماز فجر مجد اقصی میں پڑھائی۔نماز کے بعد حسب معمول بہشتی مقبرہ میں تشریف لے گئے۔وہاں مبارک مزاروں پر دعا کے بعد آپ واپسی پر محترمہ عزیزہ علی صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر جعفر علی صاحب آف کلیولینڈ ا مریکہ کی قیام گاہ میں تشریف لے گئے ( جو اُن دنوں مکرم ڈاکٹر بشیر احمد ناصر در وائیں صاحب کے ہاں مقیم تھیں اوران کا چھوٹا بچہ بہا تھا ) اور ان کے بچے کی عیادت کی اور پھر دار اسیح تشریف لائے۔آن صبح جب بہشتی مقبرہ جانے کے لئے حضور انور دار اس کے مین گیٹ سے باہر تشریف لائے تو راستہ میں حکیم سورن سنگھ صاحب میونسپل کمشنر قادیان بڑی گرم جوشی اور تپاک سے خلیفہ اسیح سے ملے اور بر جستہ گویا ہوئے کہ وو جب تقسیم ملک کے بعد ہم یہاں آئے تو ہمیں معلوم ہوا کہ حضرت مرزا صاحب کی قادیان واپس آنے کی پیشگوئیاں ہیں۔اُس پر آشوب وقت میں یہ پیشگوئیاں بے حقیقت لگتی تھیں اور ہم ان پر ہنسا کرتے تھے لیکن اب آپ یہاں تشریف لائے ہیں اور ساری دنیا سے احمدیوں کی یہاں آمد دیکھی ہے تو ہم اس بات کے گواہ ہیں کہ مرزا صاحب کی پیشگوئیاں سچی ہیں۔“ اس کے بعد حکیم صاحب موصوف نے مزید خیر سگالی کے جذبات اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے زمانہ میں بھی اسی طرح کئی غیر مسلم خدا تعالیٰ کی طرف سے تائیدی نشانوں کو ملاحظہ کرتے تھے اور اُن کا اظہار کرتے تھے اور آج بھی اُن پیشگوئیوں کے پورا ہونے کے یہ لوگ گواہ بن رہے ہیں جو ایک زمانہ پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرما ئیں۔اللہ کرے کہ گلشن احمد ہمیشہ ہی مسکن بادصبار ہے اور عنایات یار کی نسیم ہمیشہ یہاں چلتی رہے۔حضور انور صبح سوا دس بجے دفتر میں تشریف لائے۔مکرم پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے آج کے پروگراموں کی تفصیل اور دیگر دفتری امور پیش کر کے ہدایات حاصل کیں۔ان کے بعد محترمہ