دورۂ قادیان 1991ء — Page 148
148 عزیزہ علی صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر جعفر علی صاحب نے شرف ملاقات پایا۔ان کے بعد مکرم مولا نا محمد انعام غوری صاحب صدر اصلاحی کمیٹی قادیان نے حضرت خلیفہ اسیح " کی خدمت میں امور پیش کر کے ہدایات لیں۔بعد ازاں شہر کے غیر مسلم احباب نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر ملاقات کا شرف پایا۔بعض گروپس کی صورت میں آئے اور بعض فیملیز کی صورت میں۔ان کی مجموعی تعداد ایک سو کے لگ بھگ تھی۔ان میں سے ہر ایک نے آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر برکت حاصل کی اور فیض پایا۔بعض نے علاج کے لئے ہو میو پیتھک نسخے بھی حاصل کئے۔بيت الذكر وبيت الفکر اور بیت الدعا حضرت خلیفہ اسی نے نماز ظہر وعصر آج مسجد مبارک میں پڑھائیں۔الہام الہی میں مسجد مبارک کا دوسرا نام بیت الذکر رکھا گیا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے براہین احمدیہ میں تحریر فرمایا ہے کہ أَلَمْ نَجْعَلْ لَكَ سُهُولَةٌ فِى كُلّ أَمْرِ بَيْتُ الْفِكْرِ وَبَيْتُ الذِّكْرِ وَمَنْ دَخَلَهُ كانَ امنا۔۔۔کیا ہم نے ہر ایک بات میں تیرے لئے آسانی نہیں کی کہ تجھ کو بیت الفکر اور بیت الذکر عطا کیا اور جو شخص بیت الذکر میں باخلاص وقصد تعبد وصحت نیت وحسن ایمان داخل ہوگا وہ سوئے خاتمہ سے امن میں آجائے گا۔بیت الفکر سے مراد اس جگہ وہ چوبارہ ہے جس میں یہ عاجز کتاب کی تالیف کے لئے مشغول رہا ہے اور رہتا ہے اور بیت الذکر سے مراد وہ مسجد ہے کہ جو اس چوبارہ کے پہلو میں بنائی گئی ہے۔( براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد نمبر صفحه: ۲۲۶ حاشیہ نمبرم) اسی مسجد کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خبر دی ”مبارک و مبارک وكُلُّ أَمْرٍ مُبَارَكِ يُجْعَل فيه یعنی یه مسجد برکت دہندہ اور برکت یافتہ ہے اور ہر ایک امر مبارک اس میں کیا جائے گا۔(براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد نمبر صفحه: ۲۶۷ حاشیہ نمبر۴ ) اسی مسجد میں سے حجرہ میں دروازہ کھلتا ہے۔یہ وہ حجرہ ہے جس میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام مورخہ ۲۷ رمضان المبارک بروز جمعہ ۱۳۰۲ھ مطابق ۱۰، جولائی ۱۸۸۵ء بعد نماز فجر قبلہ رخ چار پائی پر کروٹ کے بل لیٹے ہوئے تھے جبکہ عالم کشف میں دیکھا کہ حضور نے بعض احکام قضا و قدر