دورۂ قادیان 1991ء — Page 137
137 تکلیف کی وجہ سے علیل تھی۔بعد میں لندن آکر تھوڑے عرصہ بعد معلوم ہوا کہ یہ کینسر تھا جو بالآخر آپ کے وصال کا باعث بنا۔نیز یہاں آرام مکمل میسر نہ آ سکنے کی وجہ سے آپ کی جلد لندن واپسی کے لئے برٹش ائیرویز کی فلائٹ BA142 میں سیٹ بک کرائی گئی تھی۔آپ کے ہمراہ آپ کی بڑی بیٹی محترمہ صاحبزادی شوکت جہاں صاحبہ کے علاوہ مکرم صاحبزادہ مرزا لقمان احمد صاحب اور اُن کے بچے صاحبزادہ مرزا آدم عثمان احمد صاحب اور صاحبزادی نداء النصر صاحبہ بھی تھے۔ان کے علاوہ مکرم مرزا عبدالرشید صاحب لندن، مکرم مشہود الحق صاحب سویڈن اور لندن کے ایک خادم مکرم صباح الدین نجم صاحب اس قافلہ میں شامل تھے۔یہ فلائٹ دہلی کے اندرا گاندھی ائیر پورٹ کے ٹرمینل A سے مقامی وقت کے مطابق صبح ۷:۳۰ بجے روانہ ہوئی اور لندن کے گیٹ وک ائیر پورٹ پر مقامی وقت کے مطابق تقریباً ۱۲ بجے پہنچ گئی اور حضرت بیگم صاحبہ بخیریت ۲:۰۰ بجے دوپہر لندن مشن ہاؤس میں اپنی قیامگاہ میں تشریف لے آئیں۔الحمد للہ حضور قادیان جانے کیلئے پونے گیارہ بجے دہلی مشن ہاؤس سے دہلی کے اندرا گاندھی ائیر پورٹ کے لئے روانہ ہوئے اور ساڑھے گیارہ بجے ائیر پورٹ کے ٹرمینل B پر تشریف لائے۔سامان کی Check In اور دیگر معمول کی کارروائی پہلے سے ہی کر لی گئی تھی۔چنانچہ حضور انور سید ھے لاؤنج میں تشریف لائے اور چند ہی منٹوں کے بعد اپنی تین بچیوں ،ایک نواسے اور اراکین قافلہ کے ہمراہ انڈین ائیر لائن کے طیارہ بوئنگ ۳۷ے کی فلائٹ نمبر ۴۲۳ میں سوار ہوئے جو امرتسر جانے کے لئے تیار تھا۔حضور کے ہمراہ آپ کی تین بیٹیاں ،محترمہ صاحبزادی فائزہ بیگم صاحبہ مع اپنے بیٹے مرزا عدنان احمد صاحب محترمہ صاحبزادی یاسمین رحمن مونا صاحبہ اورمحترمہ صاحبزادی عطیہ المجیب طوبی صاحبہ تھیں اور قافلہ میں مکرم صاحبزادہ مرز اوسیم احمد صاحب ناظر اعلی قادیان مکرم بشیر احمد خان رفیق صاحب، مکرم نصیر احمد قمر صاحب، خاکسار (بادی علی )، مکرم آفتاب احمد خان صاحب، مکرم میجر محمود احمد صاحب چیف سیکیورٹی آفیسر مکرم ملک اشفاق احمد صاحب، مکرم مرزا عبد الباسط صاحب لندن مکرم خالد نبیل ارشد صاحب، مکرم مسعود حیات صاحب لندن، وجاہت احمد صاحب لندن اور مکرم سید فضل احمد صاحب انڈیا شامل تھے۔