دورۂ قادیان 1991ء — Page 138
138 حضور اس طیارہ میں سیٹ -1-F پر تشریف فرما ہوئے۔جہاز ۱۲:۲۵ پر روانہ ہوکر تقریباً ۴۵ منٹ کی پرواز کے بعد امرتسر کے ائیر پورٹ پر اتر گیا۔امرتسر ائیر پورٹ پر قادیان سے مکرم سعادت احمد صاحب نائب ناظر امور عامہ قادیان حضور انور کے استقبال کے لئے آئے ہوئے تھے۔قافلے کیلئے کاروں کا انتظام موجود تھا۔اسی طرح حسب سابق پولیس ایسکورٹ بھی موجود تھی۔ائیر پورٹ سے نکلتے ہی حضور انور اور دیگر سب ارکانِ قافلہ کا روں میں بیٹھ گئے اور یہ قافلہ حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے خلیفہ چہارم کے ہمراہ مسیح پاک کی بستی اور احمدیت کے دائمی مرکز کی جانب رواں دواں ہوا یہ قافلہ سات کاروں ، ایک ویگن اور دو پولیس ایسکورٹ کی گاڑیوں پر مشتمل تھا۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع نے دو بجگر چالیس منٹ پر قادیان دارالامان میں ورود فرمایا۔دار امسیح سے باہر آقا کے منتظر غلاموں کا جم غفیر تھا جس نے آقا کی سواری دیکھتے ہی نعروں سے فضا میں ایک ارتعاش پیدا کر دیا۔ہر چہرے پر ایک ایسی مقدس خوشی رقصاں تھی کہ جیسے وہ آسمان سے اتر رہی ہو۔آقا کو ایک نظر دیکھنے کی تمنا میں ہر نظر کار کے نیلے رنگ کے شیشوں کو چیر کر اندر اترنے پر بے قرار تھی اور جس نظر نے آقا کو ایک مرتبہ دیکھ لیا۔وہ دوسری دفعہ دیکھنے کیلئے بیتاب ہوگئی۔اور جو اس سے حرومری وہ کار کا تعاقب کرتی چلی گئی۔حتی کہ کار دار اسی کے بڑے گیٹ میں سے اندر چلی گی اور اس زمین نے خلیفہ اسی کی ایکبار پھر قدم بہی کی جس نے خدا کے پاک مسیح کے بھی قدم چومے تھے۔حضرت خلیفہ اسی نے دار مسیح میں تشریف لا کر ارشاد فرمایا کہ جمعہ تین بجے شروع ہوگا چنا نچہ مکرم صاحبزادہ مرزا اوسیم احمد صاحب نے بلند آواز سے احباب کو جمعہ کے وقت سے آگاہ فرمایا۔آج حضرت خلیفہ اسیح کے قادیان میں دوبارہ ورود مسعود سے قادیان میں دوبارہ آمد سے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام مثنى وثلاث وربع ( تذکره صفحه ۶۸۴) کا ایک حصہ مثنی ایک رنگ میں پورا ہو گیا۔فالحمد للہ ( آج جمعہ ہے اور تاریخ دس ہے یعنی Friday The 10th۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع کے سفر قادیان کا یہ آخری جمعہ تھا۔جو قادیان میں ہونے اور "Friday the 10th" ہونے کی وجہ سے عظیم الشان تاریخی منفر د حیثیت کا حامل تھا۔