دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 100 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 100

100 اے خدا اے کارساز وعیب پوش و کردگار اے مرے پیارے مرے محسن میرے پروردگار کس طرح تیرا کروں اے ذوالمنن شکر و سپاس وہ زباں لاؤں کہاں سے جس سے ہو یہ کاروبار کام جو کرتے ہیں تیری راہ میں پاتے ہیں جزا مجھ سے کیا دیکھا کہ یہ لطف وکرم ہے بار بار یہ سراسر فضل واحساں ہے کہ میں آیا پسند ورنہ درگہ میں تری کچھ کم نہ تھے خدمت گزار میرے جیسے کو جہاں میں تو نے روشن کر دیا کون جانے اے میرے مالک ترے بھیدوں کی سار صاف دل کو کثرت اعجاز کی حاجت نہیں اک نشاں کافی ہے گر دل میں ہو خوف کردگار سکتا ہی نہیں میں ضعف دین مصطفیٰ مجھ کو کر اے میرے سلطاں کامیاب و کامگار کیوں عجب کرتے ہوگر میں آگیا ہو کر مسیح خود مسیحائی کا دم بھرتی ہے یہ بادِ بہار باغ میں ملت کے ہے کوئی گلِ رعنا کھیلا آئی ہے بادِ صبا گلزار سے مستانہ وار اسمعوا صوت السماء جاء المسيح جاء المسيح نيز بشنو از زمین آمد امام کا مگار اب اسی گلشن میں لوگو راحت و آرام ہے وقت ہے جلد آؤ اے آوارگان دشت خار اک زماں کے بعد اب آئی ہے یہ ٹھنڈی ہوا پھر خدا جانے کہ کب آویں یہ دن اور یہ بہار ہر طرف آواز دینا ہے ہمارا کام آج جس کی فطرت نیک ہے وہ آئے گا انجام کار سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس پر شوکت کلام کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الرابع کی تازہ نظم جو آپ نے دہلی سے قادیان کے سفر کے دوران مورخہ ۹ار دسمبر ۱۹۹۱ء کو کہی۔مکرم ناصر علی عثمان صاحب آف قادیان نے ایسی خوبصورت لے میں پڑھ کر سنائی کہ سامعین مسحور ہو گئے۔یہ غیر معمولی اثر رکھنے والی دلنشیں نظم درج ذیل ہے۔