دورۂ قادیان 1991ء — Page 101
101 اپنے دیس میں اپنی بستی میں اک اپنا بھی تو گھر تھا اپنے دیس میں اپنی بستی میں اک اپنا بھی تو گھر تھا جیسی سند تھی وہ بستی ویسا وہ گھر بھی سُندر تھا دیس بدیس لئے پھرتا ہوں اپنے دل میں اُس کی گنتھا ئیں میرے من میں آن بسی ہے تن من دھن جس کے اندر تھا سادہ اور غریب تھی جلتا۔لیکن نیک نصیب تھی جنتا فیض رساں عجیب تھی جنتا۔ہر بندہ، بندہ پرور تھا بچے لوگ تھے، بچی بستی۔کرموں والی اُچی بستی جو اونچا تھا۔نیچا بھی تھا۔عرش نشیں تھا خاک بسر تھا اُس کی دھرتی تھی آکاشی۔اُس کی پر جاتھی پر کاشی جس کی صدیاں تھیں متلاشی گلی گلی کا وہ منظر تھا کرتے تھے آآکے بسیرے پنکھ پکھیرو شام سویرے پھولوں اور پھلوں سے بوجھل بستاں کا ایک ایک شجر تھا اس کے سُروں کا چرچا جاجال دیس بدیس میں ڈنکا با جا اُس بستی کا پیتیم را جا۔کرشن گنہیا مرلی دھر تھا چاروں اور بجی شہنائی۔بھیجوں نے اک دھوم مچائی رت بھگوان ملن کی آئی۔پیتیم کا درشن گھر گھر تھا گوتم بدھا بدھی لایا۔سب رشیوں نے درس دکھایا عیسی اُترا مہدی آیا جو سب نبیوں کا مظہر تھا مہدی کا دِلدار محمد۔نبیوں کا سردار محمد نور نظر سرکار محمد جس کا وہ منظورِ نظر تھا آشاؤں کی اس بستی میں میں نے بھی فیض اس کا پالیا مجھ پر بھی تھا اس کا چھایا۔جس کا میں ادنی چاکر تھا اتنے پیار سے کس نے دی تھی میرے دل کے کواڑ پہ دستک رات گئے میرے گھر کون آیا۔اُٹھ کر دیکھا تو ایشر تھا عرش سے فرش پہ مایا اتری۔روپا ہوگئی ساری دھرتی مٹ گئی گلفت چھا گئی مستی۔وہ تھا میں تھا من مندِ رتھا تجھ پر میری جان نچھاور۔اتنی کر پا رک پانی پر جس کے گھر نارائن آیا۔وہ کیڑری سے بھی کمتر تھا رب نے آخر کام سنوارے گھر آئے پر ہا کے مارے آ دیکھے اُونچے مینارے۔نُورِ خدا تاحدِ نظر تھا مولا نے وہ دن دکھلائے۔پریمی رُوپ نگر کو آئے ساتھ فرشتے پر پھیلائے۔سایہ رحمت ہر سر پر تھا عشق خدائو نہوں پر دستے پھوٹ رہا تھا نور نظر سے اکھین سے مے پہیت کی برسے۔قابل دید ہر دیدہ ور تھا لیکن آہ جو رستہ تکتے۔جان سے گزرے تجھ کو ترستے کاش وہ زندہ ہوتے جن پر ہجر کا اک اک پل دو بھر تھا آخر دم تک تجھ کو پکارا۔اُس نہ ٹوٹی ، دل نہ ہارا مصلح عالم باپ ہمارا۔پیکر صبر ورضا، رہبر تھا سدائبا گن رہے یہ بستی۔جس میں پیدا ہوئی وہ ہستی جس سے نور کے سوتے پھوٹے۔جوٹوروں کا اک ساگر تھا ہیں سب نام خدا کے سُندر وا ہے گرو۔اللہ اکبر سب فانی اک وہی ہے باقی۔آج بھی ہے جو کل ایشر تھا