چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت — Page 188
۱۸۸ تمام گناہوں سے جو ہماری انفرادی و اجتماعی زندگی میں آتے ہیں استغفار کرتے ، اُن کی اصلاح کی فکر کرتے اور نئی صدی میں اللہ تعالیٰ کی مرضی و منشا کے مطابق چلنے کا عمل کرتے۔نیز نئی صدی کے استقبال کا ایک تقاضا یہ بھی تھا کہ نئی صدی جن متوقع فتنوں کو اپنے دامن میں لئے ہے تم ان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا اہتمام کرتے اور اُن سے بچنے کی تدبیروں میں مشغول ہوتے " رسانہ چٹان“ (لا ہوں لکھتا ہے کہ : پندرھویں صدی ہجری کا پیغام یہی ہے کہ اسلام کے نام لیوا مسلمان نہیں اور پورے کے پورے اسلام میں اخل ہوں بصورت دیگر اُن کی بیٹھیوں کو وقت کے تازیانے کا انتظار کرنا چاہیے " ہفت روزہ چٹان لاہور ار نومبر ۱۹۸۰ء ص ) اور جناب صدر پاکستان نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو خبردار کیا ہے کہ ج " جب تک مسلمانوں نے اسلام کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھا اور اُس کے اصولوں پر کاربند ہے وہ دین اور دنیا دیں