چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت

by Other Authors

Page 189 of 203

چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت — Page 189

۱۸۹ میں کامیاب و کامران رہے اور جب اسلامی انداز فکر ترک کر دیا راہ عمل سے کنارہ کشی کرلی، کھو و لعب میں غرق ہو گئے تو عزت و تکریم کی بلندیوں سے گر کر پستی اور غلامی کی گہرائیوں میں جا گرے۔چودھویں صدی کے اختتام اور پندرھویں صدی ہجری کے آغاز پر ہمیں یہ فیصلہ کرتا ہے کہ ہم نے ایک فرد ایک قوم اور ایک ملت کے طور پر ترقی و عزت کو اپنانا ہے یا ذلت و تذلیل کو مقدر بنانا ہے۔فیصلہ ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے اور فیصلہ کے نتائج چودہ سو سالہ تاریخ کے آئینے میں ہمارے سامنے ہیں۔صدر نے بتایا کہ اگر ہمارا فیصلہ عزت و وقار کا فیصلہ ہے تو ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہئیے کہ اس کا ایک اور صرف ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ ہم بلاتاخیر اسلام کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلیں۔شرک اور منافقت ترک کر دیں ، اسلام کے احکامات کی مکمل پابندی کریں، انفرادی سطح پر باعمل مسلمان اور اجتماعی طور معنوں میں ملت اسلامیہ کے رکن بن جائیں ورنہ تاریخ کا فیصلہ ہمارے سامنے ہے اور ہمیں ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ فیصلہ بڑا سخت اور بڑا ہی عبرتناک ہے (روز نامہ