حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 30 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 30

30 چاہئے اور شاخوں کا قصہ خود بخود تمام ہو جائے گا اور اس بحث سے دنیا پر کھل جائے گا کہ شیخ الکل صاحب کے پاس مسیح کی جسمانی زندگی پر کون سے دلائل یقینیہ ہیں جن کی وجہ سے انھوں نے عوام الناس کو سخت درجہ کے اشتعال میں ڈال رکھا ہے۔مگر یہ پیشگوئی بھی یا درکھو کہ وہ ہرگز بحث نہیں کریں گے۔اور اگر کریں گے تو ایسے رسوا ہوں گے کہ منہ دکھانے کی جگہ نہیں رہے گی۔ہائے مجھے ان پر بڑا افسوس ہے کہ انھوں نے چند روز زندگی کے ننگ و ناموس سے پیار کر کے حق کو چھپایا اور راستی کو ترک کر کے ناراستی سے دل لگایا۔“ آسمانی فیصلہ۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۱۶) اس چیلنج کے ساتھ حضور نے دوسرا چیلنج یہ بھی دیا کہ چونکہ انہوں نے میرے اعلانات کو کہ میں مومن مسلمان ہوں کوئی وقعت نہیں دی اس لئے اب مولوی نذیرحسین صاحب اور ان کی جماعت کے لوگ بٹالوی وغیرہ علماء ان علامات کے اظہار کیلئے مجھ سے مقابلہ کرلیں جو قرآن کریم اور احادیث میں کامل مومن کی بتائی گئی ہیں۔لیکن کسی کو بھی اس کیلئے سامنے آنے کی جرات نہ ہو سکی۔مولوی اسحق صاحب کو مسئلہ وفات و حیات مسیح پر بحث کرنے کی دعوت ۳۰ / اکتوبر ۱۸۹۱ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مکان پر مولوی محمد اسحق صاحب اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مابین ”مسئلہ وفات وحیات مسیح پر گفتگو ہوئی۔جس میں مولوی صاحب کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔مگر بعد میں مولوی صاحب کے بعض دوستوں کی طرف سے یہ پراپیگنڈا شروع کر دیا گیا کہ اس بحث میں مولوی محمد الحق صاحب کو فتح ہوئی ہے۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک اشتہار کے ذریعہ اصل حقیقت حال کو بیان فرمایا اور مولوی