حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 29
29 دسمبر ۱۸۹۱ء میں رسالہ آسمانی فیصلہ لکھا۔جس میں خاص طور پر میاں نذیر حسین صاحب کو پھر تحریری بحث کیلئے دعوت دی اور فرمایا کہ اگر وہ لاہور آ سکیں تو ان کے آنے جانے کا کرایہ بھی ادا کروں گا ورنہ دہلی میں بیٹھے ہوئے اظہار حق کیلئے تحریری بحث کر لیں میاں صاحب کو بحث کیلئے میں اس لئے ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ شیخ الکل ہیں اور لوگوں کے خیال میں سب سے علم میں بڑھے ہوئے ہیں اور علماء ہند میں بیخ کی طرح ہیں۔اور کچھ شک نہیں کہ پیج کے کاٹنے سے تمام شاخیں خود بخودگریں گی۔چنانچہ آپ نے فرمایا۔میں اسی طرح بحث وفات مسیح کیلئے اب پھر حاضر ہوں جیسا کہ پہلے حاضر تھا۔اگر میاں صاحب لاہور میں آکر بحث منظور کریں تو میں ان کی خاص ذات کا کرایہ آنے جانے کا خود دے دوں گا۔اگر آنے پر راضی ہوں تو میں ان کی تحریر پر بلا توقف کرایہ پہلے روانہ کر سکتا ہوں۔اب میں دہلی میں بحث کیلئے جانا نہیں چاہتا کیونکہ دہلی والوں کے شور و غوغا کو دیکھ چکا ہوں اور ان کی مفسدانہ اور اوباشانہ باتیں سن چکا ہوں وَلَا يُدَعُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ۔میں تو یہ بھی کہتا ہوں کہ اگر میں بحث وفات مسیح سے گریز کروں تو میرے پر بوجہ صد عن سبیل اللہ خدائے تعالیٰ کی ہزار لعنت ہو۔اور اگر شیخ الکل صاحب گریز کریں تو ان پر اس سے آدھی ہی سہی اور اگر وہ حاضر ہونے سے روگردان ہیں تو میں یہ بھی اجازت دیتا ہوں کہ وہ اپنی جگہ پر ہی بذریعہ تحریرات اظہار حق کیلئے بحث کر لیں غرض میں ہر طرح سے حاضر ہوں اور میاں صاحب کے جواب باصواب کا منتظر ہوں میں زیادہ تر گرمجوشی سے میاں صاحب کی طرف اسلئے مستعد ہوں کہ لوگوں کے خیال میں ان کی علمی حالت سب سے بڑھی ہوئی ہے اور وہ علمائے ہند میں بیخ کی طرح ہیں۔اور کچھ شک نہیں کہ پیج کے کاٹنے سے تمام شاخیں خود بخود کریں گی سو مجھے بیج ہی کی طرف متوجہ ہونا