حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 31
31 صاحب کو بعض شرائط کے ساتھ دوبارہ بحث کرنے کی دعوت دی۔فرمایا۔مولوی محمد الحق صاحب کو مخاطب کر کے اشتہار ہذا شائع کیا جاتا ہے کہ ہر ایک خاص و عام کو اطلاع رہے کہ جو بیان مولوی صاحب کی طرف سے شائع ہوا ہے وہ محض غلط ہے۔حق بات یہ ہے کہ ۳۰ /اکتوبر کی تقریر میں مولوی صاحب ہی مغلوب تھے اور ہمارے شافی و کافی دلائل کا ایک ذرہ جواب نہیں دے سکے۔اگر ہمارا یہ بیان مولوی صاحب کے نزدیک خلاف واقعہ ہے تو مولوی صاحب پر فرض ہے کہ اشتہار کے شائع ہونے کے بعد ایک جلسہ بحث مقرر کر کے اس مسئلہ حیات و وفات مسیح میں اس عاجز سے بحث کر لیں۔اور اگر بحث نہ کریں تو پھر ہر ایک منصف کو سمجھنا چاہئے کہ وہ گریز کر گئے۔شرائط بحث بہ تفصیل ذیل ہوں گے۔(۱) حیات و وفات مسیح ابن مریم کے بارہ میں بحث ہوگی۔(۲) بحث تحریری ہوگی یعنی دو کا تب ہماری طرف سے اور دو کا تب مولوی صاحب کی طرف سے اپنی اپنی نوبت پر بیانات قلم بند کرتے جائیں گے اور ہر ایک فریق ایک ایک نقل و تخطی اپنے فریق ثانی کو دے دے گا۔پرچے بحث کے تین ہوں گے۔مولوی صاحب کی طرف سے بوجہ مدعی حیات ہونے کے پہلا پرچہ ہو گا۔پھر ہماری طرف سے جواب ہوگا۔تحریری بحث سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ فریقین کے بیانات محفوظ رہتے ہیں دور دست کے غائبین کو بھی ان پر رائے لگانے کا موقع مل سکتا ہے اور کسی کو یہ یارا نہیں ہوتا کہ خارج از بحث یا رطب و یابس کو زبان پر لا سکے۔پبلک اس بات کوسن رکھے کہ ہم اس اشتہار کے بعد ۲ نومبر ۱۸۹۱ء کے ۱۲ بجے دن تک مولوی صاحب کے جواب اور شروع بحث کا انتظار کریں گے جس طرح دہلی میں مولوی سید نذیرحسین صاحب کو اشتہار ۱۷ راکتو بر ۱۸۹۱ء میں قسم دی گئی تھی وہی قسم آپ کو بھی دی جاتی ہے۔امید ہے کہ آپ بحث سے ہرگز احتراز نہ کریں گے۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۲۴۸، ۲۴۹)