حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 372
372 اور نامور آریہ ضرور چاہئے جس کا اثر دوسروں پر بھی پڑسکے سو سب سے پہلے لالہ مرلید ھر صاحب اور پھر لالہ جیوند اس صاحب سیکرٹری آریہ سماج لاہور اور پھر منشی اندر من صاحب مراد آبادی اور پھر کوئی اور دوسرے صاحب آریوں میں سے جو معزز اور ذی علم تسلیم کئے گئے ہوں مخاطب کئے جاتے ہیں کہ اگر وہ وید کی ان تعلیموں کو جن کو کسی قدر ہم اس رسالہ میں تحریر کر چکے ہیں۔فی الحقیقت صحیح اور بچے سمجھتے ہیں اور ان کے مقابل جو قرآن شریف کے اصول تو علیمیں اسی رسالہ میں بیان کی گئی ہیں ان کو باطل اور دروغ خیال کرتے ہیں تو اس بارہ میں ہم سے مباہلہ کر لیں اور کوئی مقام مبللہ کا برضامندی فریقین قرار پا کر ہم دونوں فریق تاریخ مقررہ پر اس جگہ حاضر ہو جائیں اور ہریک فریق مجمع عام میں اٹھ کر اس مضمون مباہلہ کی نسبت جو اس رسالہ کے خاتمہ میں بطور نمونہ اقرار فریقین قلم جلی سے لکھا گیا ہے تین مرتبہ قسم کھا کر تصدیق کریں کہ ہم فی الحقیقت اس کو سچ سمجھتے ہیں اور اگر ہمارا بیان راستی پر نہیں تو ہم پر اسی دنیا میں وبال اور عذاب نازل ہو۔غرض جو جو عبارتیں ہر دو کاغذ و مباہلہ میں مندرج ہیں۔جو جانبین کے اعتقاد ہیں بحالت دروغ گوئی عذاب مترتب ہونے کے شرط پر ان کی تصدیق کرنی چاہئے اور پھر فیصلہ آسمانی کے انتظار کے لئے ایک برس کی مہلت ہوگی پھر اگر برس گزرنے کے بعد مولف رسالہ ہذا پر کوئی عذاب اور وبال نازل ہوایا حریف مقابل پر نازل نہ ہوا تو ان دونوں صورتوں میں یہ عاجز قابل تاوان پانسو بیہ ٹھہرے گا جس کو برضامندی فریقین خزانہ سرکاری میں یا جس جگہ بآسانی وہ روپیہ مخالف کو مل سکے داخل کر دیا جائے گا اور در حالت غلبہ خود بخود اس روپیہ کے وصول کرنے کا فریق مخالف مستحق ہوگا اور اگر ہم غالب آئے تو کچھ بھی شرط نہیں روپیہ کرتے کیونکہ شرط کے عوض میں وہی دعا کے آثار کا ظاہر ہونا کافی ہے۔“ سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۳۰۱،۳۰۰)