حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 371 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 371

371 پس مولوی صاحب کی وفات بے نیل و مرام ہوئی۔لہذا ان کے محض چالیس سال زندہ رہنے سے تو احمدیت کی صداقت اور بھی نمایاں ہوئی۔اے کاش لوگ تدبر سے کام لیں۔غیر مسلموں کو دعوت مباہلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقابلہ صرف مسلمانوں کے ساتھ ہی نہیں تھا بلکہ آپ جملہ مذاہب کے پیروکاروں کو توحید کے پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔یہ امر بھی آپ کے مقاصد میں تھا کہ غیر مسلموں پر اسلام کی خوبیاں ظاہر کر کے انہیں دعوت اسلام دیں۔سو علماء اسلام کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ اس مقصد کو بھی آپ نے ہمیشہ سامنے رکھا اور کبھی بھی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیا۔براہین احمدیہ کی اشاعت سے پہلے بھی آپ نے بیسیوں قیمتی مضامین دیگر مذاہب کے رد میں لکھے۔ان کے ساتھ مباحثات کئے۔نشانات دکھانے پر آمادگی کا اظہار کیا۔لیکن انہوں نے کوئی بھی فیصلہ کن طریق اختیار نہ کیا۔اب آخری حجت کے طور پر حضرت اقدس نے انہیں بھی دعوت مباہلہ دی۔چنانچہ آپ نے جملہ مذاہب کے علماء وسکالرز کو مباہلہ کے متعدد چیلنج دیئے جو درج ذیل ہیں۔تمام آریہ کو دعوت مباہلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی کتاب ”سرمہ چشم آریہ میں آریہ کو قرآن اور ویدوں کے مقابلہ کی دعوت دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اگر کوئی آریہ اس مقابلہ کے لئے تیار نہ ہوتو پھر فیصلہ کا آخری طریق مباہلہ رہ جاتا ہے جس کی طرف ہم آریہ صاحبان کو دعوت دیتے ہیں۔چنانچہ حضرت اقدس نے آریہ مذہب کے سکالرز اور پیروکاروں کو مباہلہ کا چیلنج دیتے ہوئے فرمایا۔اور اگر پھر باز نہ آدیں تو آخر الحیل مباہلہ ہے جس کی طرف ہم پہلے اشارات کر آئے ہیں۔مباہلہ کے لئے وید خوان ہونا ضروری نہیں ہاں با تمیز اور ایک باعزت