حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 364
حال ہو رہا ہے۔364 (الحکم ۱۰ را کتوبر ۱۹۰۷ء) لہذا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان تحریرات سے ماننا پڑے گا کہ یہ اشتہار دعا کے مباہلہ کا تھا نہ کہ یکطرفہ دعا۔جس طرح اشتہار کی اندرونی شہادت بتا رہی ہے کہ یہ دعائے مباہلہ تھی ، اسی طرح بیرونی شہادتوں سے بھی ظاہر ہے کہ یہ دعا یکطرفہ دعا نہ تھی۔چنانچہ اس دعا کے جواب میں مولوی ثناء اللہ صاحب نے لکھا کہ۔اس دعا کی منظوری مجھ سے نہیں لی گئی۔اور بغیر میری منظوری کے اس کو شائع کر دیا۔“ ( اہلحدیث ۲۶ /اپریل ۱۹۰۷ء) ان الفاظ سے ہر عقلمند انسان بخوبی یہ سمجھ سکتا ہے کہ مولوی صاحب نے خود بھی اس اشتہار کو یکطرفہ دعا نہیں سمجھا اور نہ منظوری نہ لینے کا اعتراض کیا معنی رکھتا ہے؟ اور اس کی اشاعت بغیر منظوری پر معترض ہونے کی وجہ کیا؟ ظاہر ہے کہ مولوی صاحب خود بھی اس دعا کو یکطرفہ دعا سمجھتے تھے جیسا کہ مولوی صاحب نے خود متعدد مقامات پر اس اشتہار کو مباہلہ کا اشتہار قرار دیا ہے۔بطور نمونہ حسب ذیل حوالہ جات ملاحظہ ہوں۔ا۔کرشن قادیانی نے ۱۵ را پریل ۱۹۰۷ءکو میرے ساتھ مباہلہ کا اشتہار شائع کیا تھا‘“ ( مرقع قادیانی جون ۱۹۰۸ء صفحه ۱۸) ۲۔”مرزا جی نے میرے ساتھ مباہلہ کا ایک طولانی اشتہار دیا تھا۔“ ( مرقع قادیانی دسمبر ۱۹۰۷ صفحه ۳)۔وہ اپنے اشتہار مباہلہ ۱۵ را پریل ۱۹۰۷ ء میں چیخ اٹھا تھا کہ اہلحدیث نے میری عمارت کو ہلا دیا ہے۔اہلحدیث ۱۹ر جون ۱۹۰۸ء)