حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 365
365 کیا اس قدر تصریح کے باوجود اس اشتہار کو اشتہار مباہلہ کی بجائے یک طرفہ دعا قرار دینا دیانتداری کا خون کرنا نہیں؟ چہارم۔اخبار اہلحدیث میں اشتہار ۱۵ را پریل پر بہت کچھ لکھنے کے بعد مولوی صاحب بطور خلاصہ اپنا جواب باین الفاظ لکھتے ہیں۔تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں اور نہ کوئی دانا اس کو منظور کر سکتا ہے۔“ (اہلحدیث ۲۶ / اپریل ۱۹۰۷ ء ) یہ الفاظ کھلے طور پر اس بات کی دلیل ہیں کہ مولوی صاحب نے اسے دعائے مباہلہ ہی سمجھا تھا اور اس کی نا منظوری کو علامت دانائی قرار دیا تھا۔جہاں تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ۱/۱۴ اپریل ۱۹۰۷ء کے ایک الہام اجیب دعوة الداع اذا دعان کا تعلق ہے اس الہام کا مطلب یہ تھا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کے متعلق ۱۴ را پریل ۱۹۰۷ء سے پہلے جو کچھ لکھا جا چکا ہے اس کے مطابق اگر وہ اس فیصلہ پر مستعد ہوئے کہ جھوٹا بچے کی زندگی میں مرجائے تو وہ ضرور پہلے مریں گے۔مگر وہ تو اس پر مستعد ہی نہ ہوئے۔پس اس الہام کا تعلق پہلی تحریروں سے ہے جو مولوی صاحب کے متعلق لکھی گئی تھیں۔ان کے مطابق اگر مباہلہ وقوع میں آجاتا تو پھر دونوں فریق میں سے کسی کی ہلاکت اس کے خلاف فیصلہ کن ہوتی۔اعتراض مولف محمدیہ پاکٹ بک لکھتا ہے۔مرزا صاحب کے رفیق خاص اور اخبار بدر قادیان کے ایڈیٹر مفتی محمد صادق صاحب نے بھی اخبار بدر ۱۳ جون ۱۹۰۷ء میں مرزا صاحب کے اشتہار ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ بعنوان ”مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ“ کو مباہلہ قرار نہیں دیا بلکہ اسے یکطرفہ دعا کر کے فیصلہ کا ایک طریق قرار دیا ہے۔جیسا کہ وہ لکھتے ہیں۔