حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 363
363 اور تمہاری بیٹیاں اپنے بھائی بند نزدیکی اور تمہارے بھائی بند نزدیکی بلا لیں۔پھر عاجزی سے جھوٹوں پر خدا کی لعنت کریں۔خدا خود فیصلہ دنیا میں ہی کر دے گا۔جو فریق اس کے نزدیک جھوٹا ہو گا دنیا میں بر باداور مورد عذاب ہوگا“۔( تفسیر ثنائی جلد ۱ صفحه ۴۰ مطبوعه ۱۳۱۴ھ مطبع چشم نو را امرتسر مصنفہ مولوی ثناء اللہ امرتسری ) دوم۔اس اشتہار میں یہ بھی تحریر کیا گیا کہ۔میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت لمبی عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے دشمنوں کی زندگی میں ہی نا کام ہلاک ہو جاتا ہے۔“ یہ الفاظ اور طریق فیصلہ صاف ظاہر کر رہا ہے کہ یہ اشتہار دعا کا مباہلہ ہے۔کیونکہ یہ قانون مباہلہ کی صورت میں ہی چسپاں ہو سکتا ہے۔واقعات کی رو سے بھی اور مولوی ثناء اللہ صاحب کے نزدیک بھی اور خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی یہی مذہب ہے جیسا کہ حضور نے ایک غیر احمدی کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ:۔یہ کہاں لکھا ہے کہ جھوٹا بچے کی زندگی میں مر جاتا ہے۔ہم نے تو اپنی تصانیف میں ایسا نہیں لکھا۔وہ کونسی کتاب ہے جس میں ہم نے ایسا لکھا ہے۔ہم نے تو یہ لکھا ہے کہ مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہو وہ بچے کی زندگی میں ہلاک ہو جاتا ہے۔مسیلمہ کذاب نے تو مباہلہ کیا ہی نہیں تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اتنا فرمایا تھا کہ اگر تو میرے بعد زندہ بھی رہا تو ہلاک کیا جائے گا۔سو ویسا ہی ظہور میں آیا۔مسیلمہ کذاب تھوڑے ہی عرصہ بعد قتل کیا گیا۔اور پیشگوئی پوری ہوئی۔یہ بات کہ جھوٹا بچے کی زندگی میں مرجاتا ہے یہ بالکل غلط ہے۔ہاں اتنی بات صحیح ہے کہ بچے کے ساتھ جو جھوٹے مباہلہ کرتے ہیں تو وہ بچے کی زندگی میں ہی ہلاک ہوتے ہیں۔جیسا کہ ہمارے ساتھ مباہلہ کرنے والوں کا