حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 332 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 332

332 ہوگا آئیندہ اس کا کوئی حق نہیں رہے گا کہ پھر کبھی مباہلہ کی درخواست کرے اور پھر ترک حیا میں داخل ہوگا کہ غائبانہ کا فر کہتا رہے۔اتمام حجت کے لئے رجسٹری کرا کر یہ اشتہار بھیجے جاتے ہیں تا اس کے بعد مکفرین کو کوئی عذر باقی نہ رہے۔اگر بعد اس کے مکفرین نے مباہلہ نہ کیا اور نہ تکفیر سے باز آئے تو ہماری طرف سے ان پر حجت پوری ہوگئی۔بالآخر یہ بھی یادر ہے کہ مباہلہ سے پہلے ہمارا حق ہوگا کہ ہم مکفرین کے سامنے جلسہ عام میں اپنے اسلام کی وجوہات پیش کریں۔والسلام علی من اتبع الهدی المشتهر خاکسار میرزاغلام احمد ۳۰ شوال ۱۳۱۰ صبح اتمام حجت اگر شیخ محمد حسین بٹالوی دہم ذیقعد ۱۳۱۰ صبح کو مباہلہ کے لئے حاضر نہ ہوا تو اسی روز سے سمجھا جائے گا کہ وہ پیشگوئی جو اس کے حق میں چھپوائی گئی تھی کہ وہ کافر کہنے سے تو بہ کرے گا پوری ہوگئی۔بالآخر میں دعا کرتا ہوں کہ اے خداوند قدیر اس ظالم اور سرکش اور فتان پر لعنت کر اور ذلت کی ماراس پر ڈال جواب اس دعوت مباہلہ اور تقرری شہر اور مقام اور وقت کے بعد مباہلہ کے لئے میرے مقابل پر میدان میں نہ آوے اور نہ کافر کہنے اور سب اور شتم سے باز آوے۔آمین ثم آمین يا ايها لمكفرون تعالوا الى امر هو سنته الله ونبيه لا فحام المكفرن المكذبين فان توليتم فاعلموا ان لعنت الله على المكفرين الذين استبان تخلفهم و شهد تخوفهم انهم كانوا كاذبين۔المشتهر میرزا غلام احمد قادیانی سچائی کا اظہار۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ ۸۲٬۸۱ ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس اعلان کے بعد پادری عبد اللہ آتھم سے مباحثہ کی غرض سے اپنے احباب کے ہمراہ امرتسر تشریف لے گئے۔بہت سارے احباب باہر سے بھی مباحثہ سننے