حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 333 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 333

333 کیلئے آئے ہوئے تھے۔عیسائیوں سے اسی مباحثہ کے دوران میں دوسرے مباہلہ کی مقررہ تاریخ • ارذی قعدہ ۱۳۱۰ ھ یعنی ۲۷ مئی ۱۸۹۳ ء آ گئی۔آپ اس تاریخ کو تیسرے پہر اپنی جماعت کے ہمراہ امرتسر کی عیدگاہ میں تشریف لائے۔آپ نے اپنے اشتہار مورخہ ۳۰ /شوال ۱۳۱۰ھ میں ہندوستان بھر کے جن جن مولویوں کو مباہلہ کے لئے دعوت دی تھی ان میں سے صرف مولوی عبدالحق غزنوی صاحب اپنے بعض طالبعلموں اور درویشوں کے ساتھ عید گاہ مذکور میں موجود تھے۔اس مباہلہ میں مولوی عبدالحق غزنوی نے اپنے متعلق تو کوئی لفظ زبان سے نہ نکالا البتہ حضرت اقدس کے لئے سخت سے سخت الفاظ استعمال کرنے اور گالی گلوچ سے اپنی زبان آلود کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔اس کے جواب میں حضرت اقدس نے صرف ان الفاظ کا اعادہ فرمایا۔میں یہ دعا کروں گا کہ جس قدر میری تالیفات ہیں ان میں سے کوئی بھی خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ کے مخالف نہیں ہے اور نہ میں کافر ہوں اور اگر میری کتابیں خدا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ کے مخالف اور کفر سے بھری ہوئی ہوں تو خدا تعالیٰ وہ لعنت اور عذاب مجھ پر نازل کرے جو ابتداء دنیا سے آج تک کسی کا فربے ایمان پر نہ کی ہو۔ور آپ لوگ آمین کہیں۔کیونکہ اگر میں کافر ہوں اور نعوذ باللہ دین اسلام سے مرتد اور بے ایمان تو نہایت برے عذاب سے میرا مرنا ہی بہتر ہے اور میں ایسی زندگی سے یہ ہزار دل بیزار ہوں اور اگر ایسا نہیں تو خدا تعالیٰ اپنی طرف سے سچا فیصلہ کر دے گا وہ میرے دل کو بھی دیکھ رہا ہے اور مخالفوں کے دل کو بھی۔حضور کی یہ دعا اس اشتہار کے مطابق تھی جو حضرت اقدس نے ایک دن قبل یعنی ۲۱ رمئی