حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 331
331 قریباً بارہ بجے تک عیسائیوں سے دربارہ حقیقت اسلام اس عاجز کا مباحثہ ہوگا اور یہ مباحثہ برابر بارہ دن تک ہوتا رہے گا۔اس لئے مکفرین جو مجھ کو کا فرٹھہرا کر مجھ سے مباہلہ کرنا چاہتے ہیں دو بجے سے شام تک مجھ کو فرصت ہوگی۔اس وقت میں بتاریخ دہم ذیقعد یا بصورت کسی عذر کے گیاراں ذیعقد ۱۳۱۰ صبح کو مجھ سے مباہلہ کر لیں اور دہم ذیقعد اس مصلحت سے تاریخ قرار پائی ہے کہ تا دوسرے علماء بھی جو اس عاجز کلمہ گواہل قبلہ کو کافر ٹھہراتے ہیں شریک مباہلہ ہو سکیں جن سے محی الدین لکھوکھے والے اور مولوی عبد الجبار صاحب اور شیخ محمد حسین بٹالوی اور منشی سعد اللہ مدرس ہائی سکول لد ہانہ اور مولوی محمد حسین صاحب رئیس لدہانہ اور میں انذیرحسین صاحب دہلوی اور پیر حیدر شاہ صاحب اور حافظ عبدالمنان وزیر آبادی اور میاں عبداللہ ٹونکی اور مولوی غلام دستگیر قصور اور مولوی شاہدین صاحب اور مولوی مشتاق احمد صاحب مدرس ہائی سکول لد ہانوی اور مولوی رشید احمد گنگوہی اور مولوی محمد علی واعظ ساکن بو پڑاں ضلع گوجرانوالہ اور مولوی محمد الحق اور سلیمان ساکنان ریاست پٹیالہ اور ظہور الحسن سجادہ نشین بٹالہ اور مولوی محمد ملازم مطبع کریم بخش لاہور وغیرہ اور اگر یہ لوگ باوجود پہنچنے ہمارے رجسٹری اشتہارات کے حاضر میدان مباہلہ نہ ہوئے تو یہی ایک پختہ دلیل اس بات پر ہوگی کہ وہ در حقیقت اپنے عقیدہ تکفیر میں اپنے تئیں کا ذب اور ظالم اور ناحق پر سمجھتے ہیں بالخصوص سب سے پہلے شیخ محمد حسین بٹالوی صاحب اشاعۃ السنتہ کا فرض ہے کہ میدان میں مباہلہ کیلئے تاریخ مقررہ پر امرتسر میں آجاوے کیونکہ اس نے مباہلہ کے لئے خود درخواست بھی کر دی ہے اور یادر ہے کہ ہم بار بار مباہلہ کرنا نہیں چاہیے کہ مباہلہ کوئی ہنسی کھیل نہیں ابھی تمام مکفرین کا فیصلہ ہو جانا چاہئے۔پس جو شخص اب ہمارے اشتہار کے شائع ہونے کے بعد گریز کرے گا اور تاریخ مقررہ پر حاضر نہیں