حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 330 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 330

330 ہم قبول کر سکتے ہیں زیادہ نہیں۔حالانکہ حدیث شریف میں سال کا لفظ تو ہے مگر تین دن کا نام ونشان نہیں اور اگر فرض بھی کر لیں کہ حدیث میں جیسا کہ تین دن کی کہیں تحدید نہیں ایسا ہی ایک سال کی بھی نہیں تاہم ایک شخص جو الہام کا دعوی کر کے ایک سال کی شرط پیش کرتا ہے علماء امت کا حق ہے اس پر حجت پوری کرنے کے لئے ایک سال ہی منظور کر لیں۔اس میں تو حمایت شریعت ہے تا مدعی کو آئیندہ کلام کرنے کی گنجائش نہ رہے۔“ ( تبلیغ رسالت جلد ۷ صفحه ۵۳) مولوی عبدالحق غزنوی کا رد عمل مباہلہ کے اس چیلنج کے بعد جس میں مولوی نذیرحسین دہلوی اور مولوی محمد حسین بٹالوی خصوصی طور پر اور دیگر تمام ملکفر اور مکذب علماء کو عمومی طور پر دعوت مباہلہ دی گئی ہے اور تو کسی مولوی نے اس چیلنج کو قبول نہ کیا۔صرف مولوی عبدالحق غزنوی صاحب نے بذریعہ اشتہار ۲۶؎ شوال ۱۳۱۰ھ کو مباہلہ کی اس دعوت کو قبول کیا۔اس اشتہار کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ م نے بھی اعلان مباہلہ بجواب اشتہار عبدالحق غزنوی“ کے عنوان سے درج ذیل اشتہار السلام - شائع فرمایا۔ایک اشتہار مباہلہ مؤرخه ۲۶ شوال ۱۳۱۰ هجری شائع کردہ عبدالحق غزنوی میری نظر سے گذرا۔سو اس لئے یہ اشتہار شائع کیا جاتا ہے کہ مجھ کو اس شخص اور ایسا ہی ایک مکفر سے جو عالم یا مولوی کہلاتا ہے مباہلہ منظور ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ القدیر میں تیسری یا چوتھی ذی قعد ۱۳۱۰ صبح تک امرتسر میں پہنچ جاؤں گا اور تاریخ مباہلہ دہم ذیقعد اور یا بصورت بارش وغیرہ کسی ضروری وجہ سے گیارہویں ذیقعدہ ۱۳۱۰ صحیح قرار پائی ہے جس سے کسی صورت میں تخلف لازم نہیں ہوگا۔اور مقام مباہلہ عید گاہ جو قریب مسجد خان بہادر محمد شاہ مرحوم ہے قرار پایا ہے اور چونکہ دن کے پہلے حصہ میں