حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 329
329 گی۔مولوی صاحب موصوف اگر چاہیں تو ہم نے اطمینان کے لئے بعد منظوری مباہلہ یہ رقم متین ہفتہ کے اندر اندر انجمن حمایت اسلام لاہور یا بنگال بنک میں جمع کرا دیں گے۔“ (ضمیمه تبلیغ رسالت جلد هفتم صفحه ۸۰۷۹) مولوی ابوالحسن تبتی اور جعفر زٹلی کا رد عمل مندرجہ بالا اشتہار کے جواب میں مولوی محمد حسین بٹالوی کے دوشاگر دمولوی ابوالحسن نیتی اور مولوی جعفر زٹلی صاحب نے علی الترتیب ۳۱ اکتوبر اور ۱۰ارنومبر ۱۸۹۸ء کو حضرت اقدس کے خلاف دواشتہار شائع کئے جن میں حضرت اقدس کو برا بھلا کہا گیا۔اور مولوی صاحب کا مباہلہ نہ کرنے کا یہ عذر پیش کیا کہ۔مولوی صاحب ان مجاہیل کی فضول لاف و گزاف کی طرف توجہ نہیں کرتے۔اور ان لوگوں کو مخاطب بنانا نہیں چاہتے۔اگر قادیان اپنی طرف سے دعوت مباہلہ کا اشتہار دے یا کم سے کم یہ مشتہر کر دے کہ اس کے مریدوں نے جو اشتہار دیئے ہیں وہ اسی کی رضامندی و ترغیب سے دیئے گئے ہیں اس میں مولوی صاحب ممدوح اپنی طرف سے کوئی شرط پیش نہیں کرتے صرف قادیانی کی شرط میعاد ایک سال کو اڑا کر یہ چاہتے ہیں کہ اثر مباہلہ اسی مجلس میں ظاہر ہو یا زیادہ سے زیادہ تین روز میں جو عبداللہ آتھم کے مباہلہ وقسم کیلئے اس نے تسلیم کئے تھے اور قبل از مباہلہ قادیانی اس اثر کی تعیین بھی کر دے کہ وہ کیا ہوگا۔بحوالہ تبلیغ رسالت جلدے صفحہ ۵۸،۵۷) ان کے اس عذر کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے اشتہار ۲۱ نومبر 66 ۱۸۹۸ء میں فرمایا کہ:۔غرض نہایت افسوس کی بات ہے کہ اس درخواست مباہلہ کو جو نہایت نیک نیتی سے کی گئی تھی شیخ محمد حسین نے قبول نہیں کیا اور یہ عذر کیا کہ تین دن تک مہلت اثر مباہلہ