حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 328 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 328

328 کے میدان میں قدم رکھنے کی جرات نہ کرتے۔اور مختلف قسم کے حیلے بہانے پیش کر کے فرار اختیار کر جاتے۔بالآخر جب مولوی عبدالحق غزنوی کے ساتھ امرتسر میں مباہلہ کی تاریخ مقرر ہوئی تو مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب نے بھی لاہور سے ایک اشتہار بھیجا کہ میں بھی مرزا صاحب سے مباہلہ کے لئے امرتسر آتا ہوں۔صرف مباہلہ ہو گا اور کوئی تقریر نہ ہوگی۔حضرت اقدس نے اس کے جواب میں ایک اشتہار لکھا کہ مولوی محمد حسین مجھ سے ہرگز مباہلہ نہیں کریں گے اور میرے سامنے تک نہیں آئیں گے۔اگلا دن مولوی عبدالحق غزنوی سے مباہلہ کا تھا کہ مولوی محمد حسین بھی امرتسر پہنچ گئے۔عیدگاہ میں بہت ہجوم ہو گیا اور مولوی محمد حسین بھی اس ہجوم سے اچھے خاصے فاصلہ پر کھڑے ہو کر کچھ تقریر کرنے لگے۔لوگوں کا خیال تھا کہ بعد تقریر مولوی صاحب مباہلہ کریں گے۔مرزا صاحب نے تو لکھا تھا کہ وہ میرے سامنے مباہلہ کے لئے نہیں آئیں گے لیکن یہ تو آگئے۔جب انہوں نے آدھا پونا گھنٹہ تقریر میں گزار دیا تو مولوی عبدالحق غزنویوں کے شاگر د غزنوی مولویوں کے مشورہ سے مباہلہ کے لئے آگے بڑھے۔رساله نور احمد صفحه ۳۲ ۳۳ مصنفه شیخ نور احمد احمدی بحوالہ حیات طیبه صفحه ۱۲۰) مگر مولوی صاحب کو مباہلہ کرنے کی جرات نہ ہو سکی۔اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ پیشگوئی بڑی شان سے پوری ہوئی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ ”مولوی محمد حسین صاحب مجھ سے ہرگز مباہلہ نہیں کریں گے۔“ اس کے بعد حضرت اقدس کے کچھ مریدوں نے تمام اہل اسلام کو مخاطب کر کے اکتوبر ۱۸۹۸ء میں ایک اشتہار شائع کیا جس میں مخالفوں سے کہا کہ اگر آپ لوگ اپنے آپ کو اپنے معتقدات میں سچا سمجھتے ہیں تو مولوی محمد حسین بٹالوی سے کہیں کہ وہ حضرت اقدس سے مباہلہ کیلئے تیار ہو جائیں۔اگر انہوں نے مباہلہ کر لیا اور اس مباہلہ کا کھلا کھلا اثر سال بھر کے اندر ظاہر نہ ہو گیا تو مولوی محمد حسین صاحب کو مبلغ دو ہزار پانچ سو پچھپیں روپے آٹھ آنے بطور انعام دی جائے