حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 278
278 تعالیٰ غالب ہوں گا اور اسی وقت آپ پر لازم ہوگا کہ اسی جگہ قادیان میں مشرف بہ اسلام ہو جائیں۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس جواب کے بعد پادری صاحب نے خاموشی اختیار کر لی۔اور اس طرح عیسائیوں پر بھی حجت تمام ہوگئی۔قادیان کے ساہوکاروں کا نشان نمائی کا مطالبہ قادیان کے بعض ہندو اور آریہ جو آپ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے اور بعض اکثر نشانات کے گواہ تھے بائیں انہوں نے ایک سال کے اندر اس دعوت یکسالہ کی بناء پر نشان کا مطالبہ کیا۔چنانچہ انہوں نے آپ کو ایک تحریری درخواست اس غرض کے لئے دی اور حضرت اقدس نے بھی اس درخواست کو منظور فرماتے ہوئے گواہوں کے دستخطوں سے جواب دیا۔اس معاہدہ میں یہ طے پایا کہ حضرت اقدس ابتدائے ستمبر ۱۸۸۵ء تا ستمبر ۱۸۸۶ ء ایک سال کے اندر اندر کوئی آسمانی نشان دکھائیں گے جو انسانی طاقتوں سے بالا ہوگا۔چنانچہ اس معاہدہ کو قادیان کے ایک مشہور اور ممتاز آریہ سماجی لالہ شرمپت رائے صاحب نے شائع کر دیا جو حسب ذیل ہے۔چونکہ مرزا غلام احمد صاحب مولف براہین احمدیہ اور ساہوکاران اور شرفاء اور ذی عزت اہل ہنود قصبہ قادیان میں جو طالب صادق ہونے کے مدعی ہیں آسمانی نشانوں اور پیشگوئیوں اور دیگر خوارق کے مشاہدے کے بارے میں ( جن کے دکھلانے کا مرزا صاحب کو دعویٰ ہے ) خط و کتابت بطور باہمی اقرار وعہد و پیماں کے ہو کر ہندو صاحبوں کی طرف سے یہ اقرار وعہد ہوا ہے کہ ابتدائے ستمبر ۱۸۸۵ء لغایت اخیر ستمبر ۱۸۸۶ ء یعنی برابر ایک سال تک نشانوں کے دیکھنے کے لئے مرزا صاحب کے پاس آمد دور کھیں گے اور ان کے کاغذ اور روزنانہ الہامی پیشگوئیوں پر بطور گواہ کے دستخط