حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 277 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 277

277 دوسرے حصہ میں آپ نے یہ لکھا ہے کہ اگر مکان وغیرہ کے بارے میں کسی نوع کی ہم کو وقت پہنچی تو ہم فورا گوجرانوالہ میں آویں گے اور جو روپیہ جمع کرایا گیا ہے ہمارا ہو جائے گا۔سو اس بات کا انتظام اس طرح پر ہو سکتا ہے کہ آپ ایک دو دن کیلئے خود قادیان میں آکر مکان کو دیکھ بھال لیں اور اپنی ضروریات کا بالمواجہ تذکرہ اور تصفیہ کر لیں تا جہاں تک مجھ سے بن پڑے آپ کی خواہشوں کے پورا کرنے کیلئے کوشش کروں اور پھر بعد میں نکتہ چینی کی گنجائش نہ رہے۔۔۔۔اس خاکسار کا یہ عہد واقرار ہے کہ جو صاحب اس عاجز کے پاس آئے ان کو اپنے مکان میں سے اچھا مکان اور اپنی خواراک کے موافق خوراک دی جاوے گی۔اور جس طرح ایک عزیز اور پیارے مہمان کی حتی الوسع خدمت و تواضع کرنی چاہئے اسی طرح ان کی بھی کی جائے گی۔پھر آپ دوسری شرط میں لکھتے ہیں کہ الہام اور معجزہ کا ثبوت ایسا جیسے کتاب اقلیدس میں ثبوت درج ہیں جن سے ہمارے دل قائل ہو جائیں۔اس سلسلہ میں حضرت اقدس نے فرمایا۔آپ تسلی رکھیں کہ اقلیدس کے ناچیز خیالات کو ان عالی مرتبہ نشانوں سے کچھ نسبت نہیں۔”چہ نسبت خاک را با عالم پاک اور یہ نہیں کہ صرف اس عاجز کے بیان پر ہی حصر رہے گا بلکہ یہ فیصلہ بذریعہ ثالثوں کے ہو جائے گا۔اور جب تک ثالث لوگ جو فریقین کے مذہب سے الگ ہوں گے یہ شہادت نہ دیں کہ ہاں فی الحققیت خوارق اور پیشگوئیاں انسانی طاقت سے باہر ہیں تب تک آپ غالب اور یہ عاجز مغلوب ہو جائے گا۔لیکن درصورت مل جانے ایسی گواہیوں کے جوان خوارق اور پیشگوئیوں کو انسانی طاقت سے بالاتر قرار دیتی ہوں تو آپ مغلوب اور میں بفضلہ