حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 219
219 بلاشبہ جھوٹے ٹھہریں گے اور قطعا اس لائق ٹھہریں گے کہ ہمیں سزائے موت دی جائے اور ہماری کتابیں جلا دی جائیں اور ملعون وغیرہ ہمارے نام رکھے جائیں (ضمیمہ انوار الاسلام۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۶۵) اس تحریر میں آتھم صاحب کیلئے تین ہزار روپیہ کا انعام مقرر کیا گیا ہے اور یہ انعام بعد قسم بلا توقف دو معتبر متمول لوگوں کا تحریری ضمانت نامہ لے کر ان کے حوالہ کیا جاوے گا اور اگر چاہیں تو قسم سے پہلے ہی باضابطہ تحریر لے کر یہ رو پیدران کے حوالہ ہوسکتا ہے یا ایسے دو شخصوں کے حوالہ ہو سکتا ہے جن کو وہ پسند کریں اور اگر ہم بشرائط مذکورہ بالا روپیہ دینے سے پہلو تہی کریں تو ہم کا ذب ٹھہریں گے مگر چاہئے کہ ایسی درخواست روز اشاعت سے ایک ہفتہ کے اہندر آوے اور ہم مجاز ہوں گے کہ تین ہفتہ کے اندر کسی تاریخ پر روپیہ لے کر آتھم صاحب کی خدمت میں حاضر ہو جائیں۔لیکن اگر آتھم صاحب کی طرف سے رجسٹر شدہ خط آنے کے بعد ہم تین ہفتہ کے اندر تین ہزار روپیہ نقد لے کر امرتسر یا فیروز پوریا جس جگہ پنجاب کے شہروں میں سے آتھم صاحب فرماویں ان کے پاس حاضر نہ ہوں تو بلا شبہ ہم جھوٹے ہو گئے اور بعد میں ہمیں کوئی حق باقی نہیں رہے گا جو اور انہیں ملزم کریں بلکہ خود ہم ہمیشہ کیلئے ملزم اور مغلوب اور جھوٹے متصور ہوں (ضمیمہ انوار الاسلام۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ اے ) گے۔ناظرین! اس مضمون کو غور سے پڑھو کہ ہم اس سے پہلے تین اشتہار انعامی زرکثیر یعنی اشتہار انعامی ایک ہزار روپیہ اور اشتہار انعامی دو ہزار روپیہ اور اشتہار انعامی تین ہزار روپیہ مسٹر عبد اللہ تم صاحب کے قسم کھانے کیلئے شائع کر چکے ہیں اور بار بارلکھ چکے ہیں کہ اگر مسٹر آتھم صاحب ہمارے اس الہام سے منکر ہیں جس میں خدا تعالیٰ