حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 218 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 218

218 نے ایک لحظہ کیلئے بھی دل کو نہیں پکڑا اور میں مسیح کے ابنیت اور الوہیت کا زور سے قائل رہا اور قائل ہوں۔اور دشمن اسلام ہوں۔اور اگر میں جھوٹ بولتا ہوں۔تو میرے پر ایک ہی برس کے اندر وہ ذلت کی موت اور تباہی آوے جس سے یہ بات خلق اللہ پر کھل جائے کہ میں نے حق کو چھپایا۔جب مسٹر آتھم صاحب یہ اقرار کریں۔تو ہر ایک مرتبہ کے اقرار میں ہماری جماعت آمین کہے گی۔تب اس وقت ایک ہزار روپیہ کا بدره با ضابطہ تمسک لے کر ان کو دیا جائے گا اور وہ تمسک ڈاکٹر مارٹن کلارک اور پادری عماد الدین کی طرف سے بطور ضمانت کے ہوگا۔جس کا یہ مضمون ہو گا۔کہ یہ ہزار روپیہ بطور امانت مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب کے پاس رکھا گیا۔اور اگر وہ حسب اقرار اپنے کے ایک سال کے اندر فوت ہو گئے۔تو اس روپیہ کو ہم دونوں ضامن بلا توقف واپس کر دیں گے اور واپس کرنے میں کوئی عذر اور حیلہ نہ ہوگا۔اور اگر وہ انگریزی مہینوں کے رو سے ایک سال کے اندرفوت نہ ہوئے تو یہ رو پید ان کی ملک ہو جائے گا۔اور ان کی فتح یابی کی ایک علامت ہوگی۔“ (ضمیمہ انوار الاسلام۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۵۷،۵۶) اب ہم یہ دوسرا اشتہار دو ہزار روپیہ انعام کے شرط سے نکالتے ہیں اگر آتھم صاحب جلسہ عام میں تین مرتبہ قسم کھا کر کہہ دیں کہ میں نے پیشگوئی کی مدت کے اندر عظمت اسلامی کو اپنے دل پر جگہ ہونے نہیں دی اور برابر دشمن اسلام رہا۔اور حضرت عیس کی انبیت اور الوہیت اور کفارہ پر مضبوط ایمان رکھا تو اسی وقت نقد دو ہزار روپیہ ان کو به شرائط اقرار داده اشتہار ۹ ستمبر ۱۸۹۴ء بلا توقف دیا جائے گا اور اگر ہم بعد قسم دو ہزار روپیہ دینے میں ایک منٹ کی بھی توقف کریں۔تو وہ تمام لعنتیں جو نادان مخالف کر رہے ہیں ہم پر وارد ہوں گی اور ہم