حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 220 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 220

220 کی طرف سے ہم پر یہ ظاہر ہوا کہ آتھم صاحب ایام پیشگوئی میں اس وجہ سے بعذاب الہی فوت نہیں ہو سکے کہ انہوں نے حق کی طرف رجوع کر لیا تو وہ جلسہ عام میں قسم کھالیں کہ یہ بیان سراسر افترا ہے اور اگر افتر انہیں بلکہ حق اور منجانب اللہ ہے اور میں ہی جھوٹ بولتا ہوں تو اے خدائے قادر اس جھوٹ کی سزا مجھ پر یہ نازل کر کہ میں ایک سوال کے اندر سخت عذاب اٹھا کر مر جاؤں غرض یہ قسم ہے جس کا ہم مطالبہ کرتے ہیں اس قسم پر چار ہزار روپیہ بشرایط اشتہار ۹ ستمبر ۱۸۹۴ ء وہ ۲۰ستمبر ۱۸۹۴ ء ان کی 66 نذر کریں گے۔(ضمیمہ انوار الاسلام۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ ۹۸،۹۷) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آتھم کے علاوہ دیگر عیسائی پادریوں ، مخالف مسلمان علماء ہندو ، آریہ اور سکھوں کو بھی آتھم کو تم پر آمادہ کروانے کا چیلنج دیا۔چنانچہ آپ نے فرمایا۔بالآخر ہم یہ بھی لکھے ہیں۔کہ اگر اب بھی کوئی مولوی مخالف جو اپنی بدبختی سے عیسائی مذہب کا مددگار ہے۔یا کوئی عیسائی یا ہند و یا آریہ یا کیسول والا سکھ ہماری فتح نمایاں کا قائل نہ ہو۔تو اس کیلئے طریق یہ ہے۔کہ مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب کو قسم مقدم الذکر کے کھانے پر آمادہ کرے۔اور ہزار روپیہ نقدان کو دلا دے جس کے دینے میں ہم ان کے حلف کے بعد ایک منٹ کی توقف کا بھی وعدہ نہیں کرتے۔اور اگر ایسا نہ کرے۔اور محض اوباشوں اور بازار یبد معاشوں کی طرح ٹھٹھا ہنسی کرتا پھرے تو سمجھا جائے گا کہ وہ شریف نہیں ہے۔بلکہ اس کی فطرت میں خلل ہے۔“ (ضمیمہ انوار الاسلام۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۱،۴۰) بالآ خر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پادری فتح مسیح کو مخاطب کرتے ہوئے بطور پیشگوئی یہ پینچ دیا کہ کسی قیمت پر بھی ڈپٹی عبداللہ آ قم متم نہیں کھائیں گے۔چنانچہ فرمایا۔سو ہم اشتہار دیتے ہیں کہ فتح مسیح اگر بچے ہیں تو بذریعہ کسی چھپی ہوئی تحریر کے ہم کو