حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 217 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 217

217 گرائے جانے سے بچایا جائے گا اور اگر رجوع نہیں کرے گا تو ہاویہ میں گرایا جائے گا۔چونکہ اس کا خوف اور رجوع ثابت ہے اتنے عرصہ میں اس نے اسلام کے خلاف کوئی لفظ نہیں نکالا۔اس لئے خدا نے وج غفور و رحیم ہے اس کی موت ٹال دی مگر عیسائیوں نے نہ مانا تھا نہ مانا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض مخالف علماء بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔اور پیشگوئی کے جھوٹا ثابت ہونے کا پروپیگنڈا شروع کر دیا۔اس پر بذریعہ اشتہار یہ علان فرمایا کہ اگر آتھم اس بات پر حلف اٹھا جائے کہ اس پر پیشگوئی کا خوف غالب نہیں ہوا اور اس نے اپنے قلب میں اسلام اور بانی اسلام کے بارہ میں اپنے خیالات میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی تو پھر اگر وہ ایک سال کے اندر اندر ہلاک نہ ہو جائے تو میں اسے ایک ہزار روپیہ نقد انعام دوں گا۔پھر دوسرے اشتہار میں دو ہزار روپیہ اور تیسرے اشتہار میں تین ہزار روپیہ اور چوتھے اشتہار میں چار ہزار روپیہ دینے کا وعدہ کیا۔چنانچہ فرمایا۔”ہم اپنی فتح یابی کا قطعی فیصلہ کرنے کیلئے اور تمام دنیا کو دکھانے کیلئے کہ کیونکر ہم کو فتح نمایاں حاصل ہوئی۔یہ سہل اور آسان طریق تصفیہ پیش کرتے ہیں کہ اگر مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب کے نزدیک ہمارا یہ بیان بالکل کذب اور دروغ اور افتراء ہے تو وہ مرد میدان بن کر اس اشتہار کے شائع ہونے سے ایک ہفتہ تک ہماری مفصلہ ذیل تجویز کو قبول کر کے ہم کو اطلاع دیں۔اور تجویز یہ ہے کہ اگر اس پندرہ مہینہ کے عرصہ میں کبھی ان کو سچائی اسلام کے خیال نے دل پر ڈرانے والا اثر نہیں کیا۔اور نہ عظمت اور صداقت الہام نے گرداب غم میں ڈالا۔اور نہ خدا تعالیٰ کے حضور میں اسلامی تو حید کو انہوں نے اختیار کیا۔اور نہ ان کو اسلام پیشگوئی سے دل میں ذرہ بھی خوف آیا۔اور نہ ثلیث کے اعتقاد سے وہ ایک ذرہ متزلزل ہوئے۔تو وہ فریقین کی جماعت کے روبرو تین مرتبہ انہیں باتوں کا انکار کریں۔کہ میں نے ہرگز ایسا نہیں کیا۔اور عظمت اسلام