حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 116
116 آپ کے خلاف ہے اور وہ کبھی بھی اس امر کی اجازت نہیں دے سکتے۔ہاں یہ ہو سکے گا کہ ان نوٹوں کو بجنسہ نقل کر کے آپ کے پاس روانہ کیا جاوے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی خاص آدمی جناب کی جماعت سے یہاں آ کر خود دیکھ جاوے لیکن جلدی آنے پر دیکھا جاسکے گا۔پیر صاحب کا ایک کارڈ جو مجھے پرسوں ہی پہنچا ہے باصلہا جناب کے ملاحظہ کیلئے روانہ کیا جاتا ہے جس میں انہوں نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مولوی محمد حسن کے نوٹ انہوں نے چرا کر سیف چشتیائی کی رونق بڑھائی ہے لیکن ان سب باتوں کو میری طرف سے ظاہر فرمایا جانا خلاف مصلحت ہے۔ہاں اگر میاں شہاب الدین کا نام ظاہر بھی کر دیا جائے تو کچھ مضائقہ نہ ہوگا کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ پیر صاحب کی جماعت مجھ پر سخت ناراض ہو۔آپ دعا فرما دیں کہ آپ کی نسبت میرا اعتقاد بالکل صاف ہو جاوے اور مجھے سمجھ آ جاوے کہ واقعی آپ ملہم اور مامور من اللہ ہیں۔( خط مولوی کرم الدین صاحب بنام حضرت اقدس مندرجہ نزول مسیح روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۵۵،۴۵۴) حضرت حکیم فضل دین صاحب بھیروی کے بھی مولوی کرم دین صاحب سکنہ بھیں کے ساتھ تعلقات تھے۔انہوں نے بھی ایک خط مولوی کرم دین صاحب کو لکھا جس میں کتابوں کے حاصل کرنے کی از حد تاکید کی گئی تھی۔اب اتفاق ایسا ہوا کہ مولوی محمد حسن فیضی متوفی کا لڑکا جو کسی جگہ پر ملازم تھا ایک ماہ کی رخصت لے کر گھر آیا۔مولوی کرم الدین نے اسے چھ روپے دے کر حضرت اقدس کی کتاب اعجاز مسیح “ حاصل کر لی جس کے حاشیہ پر مولوی محمد حسن نے اپنے ہاتھ سے نوٹ لکھے تھے۔اس ساری سرگزشت کا ذکرتے ہوئے مولوی کرم الدین صاحب لکھتے ہیں:۔