حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 115
115 ہے کہ میں نے گولڑوی کو کیوں لکھا جس کے سبب سے سب میرے دشمن بن گئے۔براہ عنایت خاکسار کو معاف فرماویں کیونکہ میرا خالی آنا مفت کا خرچ ہے اور کتابیں وہ نہیں دیتے۔فقط خاکسار شہاب الدین از مقام بھیں تحصیل چکوال۔(خط بنام حضرت اقدس مندرجہ نزول مسیح صفحہ سے ہے۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۲۵ ۴۵۲) جو خط حضرت مولوی عبد الکریم نے میاں شہاب الدین کو لکھا وہ خط اس نے مولوی کرم دین صاحب کو دکھایا۔مولوی کرم دین سکنہ بھیں جو کہ بعد میں حضرت اقدس کے شدید مخالف ہو گئے اس وقت حضرت اقدس پر حسن ظن رکھتے تھے۔چنانچہ انہوں نے بھی حضرت اقدس کی خدمت میں ایک خط کے ذریعہ اپنے عقیدت مندانہ جذبات کا اظہار کرنے کے بعد لکھا کہ:۔کل میرے عزیز دوست میاں شہاب الدین طالبعلم کے ذریعہ سے مجھے ایک خط رجسٹری شدہ جناب مولوی عبد الکریم صاحب کی طرف سے ملا جس میں پیر صاحب گولڑوی کی سیف چشتیائی کی نسبت ذکر تھا۔میاں شہاب الدین کو خاکسار نے ہی اس امر کی اطلاع دی تھی کہ پیر صاحب کی کتاب میں اکثر حصہ مولوی محمد حسن صاحب مرحوم کے ان نوٹوں کا ہے جو مرحوم نے کتاب اعجاز مسیح “ اور شمس بازغہ“ کے حواشی پر اپنے خیالات لکھے تھے۔وہ دونوں کتابیں پیر صاحب نے مجھ سے منگوائی تھیں اور اب واپس آگئی ہیں۔مقابلہ کرنے سے نوٹ باصلہ درج کتاب پائے گئے ہیں۔یہ ایک نہایت سارقانہ کارروائی ہے کہ ایک فوت شدہ شخص کے خیالات لکھ کر اپنی طرف منسوب کر لئے اور اس کا نام تک نہ لیا۔اور طرفہ یہ کہ بعض وہ عیوب جو آپ کی کلام کی نسبت وہ پکڑتے ہیں پیر صاحب کی کتاب میں خود اس کی نظیر میں موجود ہیں۔وہ دونوں کتابیں چونکہ مولوی محمد حسن صاحب کے باپ کی تحویل میں ہیں اس واسطے جناب کی خدمت میں وہ کتا بیں بھیجنا مشکل ہے کیونکہ ان کا خیال