حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 117
117 مکرم معظم بندہ جناب حکیم صاحب مدظلہ العالی۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۳۱ جولائی کولڑ کا گھر پہنچ گیا۔اس وقت سے کار معلومہ کی نسبت اس سے کوشش شروع کی گئی۔پہلے تو کتابیں دینے سے اس نے سخت انکار کیا اور کہا کہ کتابیں جعفر زٹلی کی ہیں اور وہ مولوی محمد حسن مرحوم کا خط شناخت کرتا ہے اور اس نے بتاکید مجھے کہا ہے کہ فورا کتابیں لاہور زٹلی کے پاس پہنچا دوں۔لیکن بہت سی حکمت عملیوں اور شمع دینے کے بعداس کو تسلیم کرایا گیا۔مبلغ چھ روپیہ معاوضہ پر آخر راضی ہوا اور کتاب اعجاز مسیح کے نوٹوں کی نقل دوسرے نسخہ پر کر کے اصل کتاب جس پر مولوی مرحوم کی اپنی قلم کے نوٹ ہیں بدست حامل عریضہ ابلاغ خدمت ہے۔کتاب وصول کر کے اس کی رسید حامل عریضہ کو مرحمت فرماویں اور نیز اگر موجود ہوں تو چھ روپے بھی حامل کو دیدیجئے گا تا کہ لڑکے کو دے دیئے جاویں اور تا کہ دوسری کتاب شمس بازغہ کے حاصل کرنے میں دقت نہ ہو۔کتاب شمس بازغہ کا جس وقت بے جلد نسخہ آپ روانہ فرما ئیں گے فوراً اصل نسخہ جس پر نوٹ ہیں اسی طرح روانہ خدمت ہوگا۔آپ بالکل تسلی فرما دیں۔انشاء اللہ تعالیٰ ہرگز وعدہ خلافی نہ ہوگی۔امید ہے کہ میری یہ نا چیز خدمت حضرت مرزا صاحب اور آپ کی جماعت قبول فرما کر میرے لئے دعائے خیر فرمائیں گے۔لیکن میرا التماس ہے کہ میرا نام بالفعل ہر گز ظاہر نہ کیا جاوے۔“ (نقل خط مولوی کرم الدین صاحب بنام حضرت اقدس مندرجہ نزول المسیح روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۵۶، ۴۵۷) بعد میں چھ روپے دے کر حضرت حکیم فضل دین صاحب نے دوسری کتاب بھی حاصل کر لی اور جب یہ سارا مواد حضرت اقدس کی خدمت میں پہنچا تو چونکہ اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم الشان نشان