حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 112 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 112

112 بالا دونوں کتابیں جن کے حاشیوں پر نوٹ لکھے ہوئے تھے منگوا لیں اور انہیں جمع کر کے سیف چشتیائی کے نام سے ایک کتاب اردو زبان میں شائع کر دی۔مگر مولوی محمد حسن فیضی مرحوم کا اپنی کتاب میں ذکر تک نہ کیا۔پیر صاحب نے یہ کتاب حضرت اقدس کی خدمت میں بذریعہ رجسٹری بھیجی تھی۔حضرت اقدس اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔یہ کتاب ( یعنی سیف چشتیائی۔ناقل ) مجھ کو یکم جولائی ۱۹۰۲ء کو ملی ہے جس کو پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے شاید اس غرض سے بھیجا ہے کہ تا وہ اس بات سے اطلاع دیں غرض کہ انہوں نے میری کتاب اعجاز آسیح اور نیز نٹس بازغہ کا جواب لکھ دیا ہے اور اس کتاب کے پہنچنے سے پہلے ہی مجھ کو یہ خبر پہنچ چکی تھی کہ اعجاز مسیح کے مقابل پر وہ ایک کتاب لکھ رہے ہیں۔لیکن افسوس کہ میرا خیال صحیح نہ نکلا۔جب ان کی کتاب سیف چشتیائی مجھے ملی تو پہلے تو اس کتاب کو ہاتھ میں لے کر مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ اب ہم ان کی عربی تفسیر دیکھیں گے اور بمقابل اس کے ہماری تفسیر کی قدر و منزلت لوگوں پر اور بھی کھل جائے گی۔مگر جب کتاب کو دیکھا گیا اور اس کو اردو زبان میں لکھا ہوا پایا اور تفسیر کا نام ونشان نہ تھا۔تب تو بے اختیار ان کی حالت پر رونا ( نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۲۶ تا ۴۳۱ ) آیا۔اعجاز مسیح پر پیر صاحب کی نکتہ چینیاں پیر صاحب بجائے اس کے کہ حضرت اقدس کے مقابل میں اپنی طرف سے فصیح و بلیغ عربی میں سورہ فاتحہ کی تفسیر لکھتے اس قسم کے اعتراضات شروع کر دیئے کہ اس کتاب میں فلاں فلاں فقرہ مقامات حریری سے سرقہ کر کے درج کیا ہے اور یہ کہ آپ کی وحی از قبیل اضغاث واحلام اور حدیث النفس ہے۔حضرت اقدس نے اپنی کتاب ” نزول مسیح میں بڑی تفصیل کے ساتھ ان