حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 113
113 دونوں اعتراضات کا جواب دیا ہے۔مختصر یہ کہ دوسو صفحہ کی کتاب میں اگر دو چار فقرے بطور توارد دوسوصفحہ ایسے بھی نکل آئیں جو کسی دوسری کتاب میں بھی درج ہوں تو اس میں کیا قباحت لازم آ گئی۔جو شخص ہزار ہا صفحات پر مشتمل فصیح و بلیغ عربی لکھ سکتا ہے اسے کیا ضرورت پیش آئی ہے کہ وہ دو چار فقرے کسی دوسری کتاب سے نقل کرے۔یہ تو ایک قسم کا توارد ہے جو بلغاء کی کتابوں میں اکثر پایا جاتا ہے۔آپ نے اس قسم کے تو ارد کی کئی ایک مثالیں بھی پیش فرمائیں۔دوسرے اعتراض کے جواب میں آپ نے ”خدا کے کلام اور حدیث النفس یا شیطانی القاء کے مابہ الامتیاز کے طور پر ایک نہایت ہی لطیف مضمون کئی صفحات پر مشتمل درج فرمایا ہے جو پڑھنے سے ہی تعلق رکھتا ہے۔علمی ذوق رکھنے والے احباب اس لطیف مضمون کا نزول المسیح صفحہ ۵۸ سے مطالعہ فرما سکتے ہیں۔پیر صاحب کا تصنیفی سرقہ حضرت اقدس پر تو پیر صاحب نے دو سو صفحات کی کتاب میں سے دو چار فقرے لیکر سرقہ کا الزام لگایا تھا جس کا حضرت اقدس نے اپنی کتاب " نزول مسیح میں نہایت کافی وشافی جواب دیا تھا۔لیکن پیر صاحب کے متعلق یہ ثابت ہو گیا کہ انہوں نے ساری کتاب سرقہ کر کے اپنی طرف منسوب کر لی ہے۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ حضرت اقدس نزول المسیح میں پیر صاحب کی کتاب ”سیف چشتیائی کا جواب لکھنے میں مصروف تھے کہ اچانک ۲۴ جولائی ۱۹۰۲ء کو موضع بھیں ضلع جہلم سے ایک شخص میاں شہاب الدین نے آپ کی خدمت میں لکھا کہ میں پیر مہر علی شاہ کی کتاب دیکھ رہا تھا کہ اتنے میں اتفاقا ایک آدمی مجھ کو ملا جس کے پاس کچھ کہتا ہیں تھیں اور وہ مولوی محمد حسن کے گھر کا پتہ پوچھتا تھا اور استفسار پر اس نے بیان کیا کہ محمد حسن کی کتابیں پیر صاحب نے منگوائی تھیں اور اب واپس دینے آیا ہوں۔میں نے وہ کتا بیں دیکھیں تو ایک ان