حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 111 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 111

111 چنانچہ اس عظیم الشان پیشگوئی کے مطابق نہ پیر کوٹی کو اور نہ عرب و عجم کے کسی اور ادیب فاضل کو اس کی مثل لکھنے کی جرات ہوئی۔مولوی محمد حسن فیضی کی جواب لکھنے کی تیاری حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۲۳ فروری ۱۹۰۱ء کو کتاب اعجاز امسیح “ شائع کر دی جو پیر صاحب کو پہنچائی گئی۔اس کتاب میں پیر صاحب کے علاوہ علماء عرب و عجم کوعربی میں تفسیر نویسی کے لئے کھلی دعوت مقابلہ بھی تھی۔اس دعوت مقابلہ کو قبول کرتے ہوئے ایک مولوی محمد حسن فیضی ساکن موضع بھیں تحصیل چکوال ضلع جہلم مدرس مدرسہ نعمانیہ واقع شاہی مسجد لاہور نے عوام میں شائع کیا کہ وہ اس کا جواب لکھے گا۔چنانچہ اس نے جواب کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب اعجاز امسیح اور حضرت سید محمد احد رحضرت سید محمد احسن امروہی صاحب کی کتاب شمس بازغہ بجواب شمس الہدایہ پر نوٹ لکھنے شروع کئے۔ان نوٹوں پر ایک جگہ اس نے لعیۃ اللہ علی الکاذبین بھی لکھ دیا جس پر ابھی ایک ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ خدا تعالیٰ کی خاص تقدیر کے تحت وہ ہلاک ہو گیا۔اس کی اس غیر معمولی ہلاکت نے ایک طرف تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابل پر اس کا اپنا جھوٹا - ہونا ثابت کیا تو دوسری طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام منعه مانع من السماء کی سچائی کا عظیم الشان نشان فراہم کیا۔مولوی محمد حسن فیضی متوفی کا ترکہ اس کے گاؤں پہنچ گیا جس میں اس کی جملہ کتب کے ساتھ کتاب اعجاز مسیح اور شمس بازغہ بھی تھیں جن پر اس نے نوٹ لکھے تھے۔سیف چشتیائی بجواب اعجاز اسیح پیر مہرعلی گواز وی کو اپنے مرید مولوی حمد حسن بھیں کے ان نوٹوں کا جو اس نے اعجاز مسیح ،، کا جواب دینے کے لئے لکھے تھے علم تھا۔اس لئے انہوں نے اپنے کسی مرید کے ذریعے مذکورہ