حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 110
110 پر اب خاموشی حرام ہے۔اسے چاہئے کہ اس کی مثیل لائے اور خواہ ان کے باپ، بیٹے ہمنشیں ، علماء، حکماء اور فقہاء سب مل کر بھی کوشش کریں کہ اس تھوڑی اور قلیل مدت میں اس کی مثیل لاسکیں تو وہ ایسا نہیں کر سکتے۔حقیقت یہ ہے کہ میں نے اس کے بارہ میں دعا کی تو میری دعا کو شرف قبولت بخشا گیا۔پس اب کوئی لکھنے والا خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا اس کا جواب لکھے پر قدرت نہیں رکھے گا۔یہ معارف کا خزانہ ہے بلکہ ان کا شہر ہے اور یہ حقائق کے پانی اور حقائق کی مٹی سے بنائی گئی ہے۔“ اس اعجازی کلام کو پیش کرتے ہوئے آپ نے یہ بھی فرمایا کہ:۔” میں نے اس کتاب کے لئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اسے علماء کیلئے معجزہ بنائے اور کوئی ادیب اس کی نظیر لانے پر قادر نہ ہو۔اور ان کو لکھنے کی توفیق نہ ملے۔اور میری یہ دعا قبول ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے مجھے بشارت دی اور کہا منعہ مانع من السماء۔کہ آسمان سے ہم اسے روک دیں گے۔اور میں سمجھا کہ اس میں اشارہ ہے کہ دشمن اس کی مثال لانے پر قادر نہیں ہوں گے۔“ ( ترجمه از اعجاز مسیح روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۶۸) ا آج رات کو الہام ہوا منعه مانع من السماء۔یعنی اس تفسیر نویسی میں کوئی تیرا مقابلہ نہ کر سکے گا۔خدا نے مخالفین سے سلب طاقت اور سب علم کر لیا ہے۔اگر چہ ضمیر واحد مذکر غائب ایک شخص مہر شاہ کی طرف ہے لیکن خدا نے ہمیں سمجھایا ہے کہ اس شخص کے وجود میں تمام مخالفین کا وجود شامل کر کے ایک ہی کا حکم رکھا ہے تا کہ اعلیٰ سے اعلیٰ اور اعظم سے اعظم معجزہ ثابت ہو کہ تمام مخالفین ایک وجود یا کئی جان ایک قالب بن کر اس تفسیر کے مقابلہ میں لکھنا چاہیں تو ہر گز نہ لکھ سکیں گئے“ ( ملفوظات نیا ایڈیشن جلد اصفحه ۴۴۱ )