حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 83 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 83

83 سرقہ کے اعتراض کا جواب پیر مہر علی گولڑوی اور مولوی محمد حسن صاحب فیضی نے یہ اعتراض بھی کیا کہ آپ نے مقامات حریری اور مقامات ہمدانی وغیرہ سے فقرے سرقہ کر کے اپنی کتابوں میں لکھے ہیں۔حضور علیہ السلام اس اعتراض کے جواب میں فرماتے ہیں۔”ہمارا تو یہ دعوی ہے کہ معجزہ کے طور پر خدا تعالیٰ کی تائید سے اس انشاء پردازی کی ہمیں طاقت ملی ہے تا معارف و حقائق قرآنی کو اس پیرایہ میں بھی دنیا پر ظاہر کریں اور وہ بلاغت جو بیہودہ اور لغوطور پر اسلام میں رائج ہوگئی تھی اس کو کلام الہی کا خادم بنایا جائے اور جب کہ ایسا دعویٰ تو محض انکار سے کیا ہوسکتا ہے جب تک کہ اس کی مثال پیش نہ کی جائے۔یوں تو بعض شریر اور بدذات انسانوں نے قرآن شریف پر بھی یہ الزام لگایا ہے کہ اس کے مضامین تو رات اور انجیل سے مسروقہ ہیں (اس مضمون پر انگریزی اور عربی اور اردو زبان میں پادریوں کی طرف کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ناقل ) ایسا ہی یہودی کہتے ہیں کہ انجیل کی عبارتیں طالمود میں سے لفظ بلفظ چرائی گئی ہیں۔چنانچہ ایک یہودی نے حال میں ایک کتاب بنائی ہے جو اس وقت میرے پاس موجود ہے اور بہت سی عبارتیں طالمود کی پیش کی ہیں۔بغیر کسی تغیر و تبدل کے انجیل میں موجود ہیں اور یہ عبارتیں صرف ایک دو فقرے نہیں بلکہ ایک بڑا حصہ انجیل کا ہے اور وہی فقرات اور وہی عبارتیں ہیں جو انجیل میں موجود ہیں۔ان دنوں میں ایک اور شخص نے تالیف کی جس سے وہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ تو رات کی کتاب پیدائش جو گویا تو رات کے فلسفہ کی ایک جڑھ مانی گئی ہے ایک اور کتاب میں سے چرائی گئی ہے جو موسیٰ کے وقت موجود تھی۔گویا ان لوگوں کے خیال