حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 82
82 اوزيغ القلم بتغافل منى لا كجهل الجاهلين فان قدرت ان تثبت فيها عشارا فخذ منى بحذاء كل لفظ دينارا واجمع صريفا ونضارا۔وكن من المتمولين (انجام آتھم۔روحانی خزائن جلدا اصفحہ ۲۴۱) 66 یعنی میری کتابیں ایسی غلطیوں سے جیسا کہ تیرا خیال ہے مبر ا اور منزہ ہ ہیں۔ہاں سہو کاتب کی غلطیاں اور یا لغزش قلم سے جو بے خبری میں ہیں ایک مولف سے بعض وقت صادر ہو جاتی ہیں ان میں پائی جاسکتی ہیں لیکن وہ ایسی غلطیاں نہیں جو ایک جاہل زبان سے صادر ہوتی ہیں۔اگر تم کوئی ایسی غلطی بتا سکو تو میں ہر لفظی غلطی پر ایک دینار دوں گا اس طرح تم سونا چاندی جمع کر کے مالدار بھی بن سکتے ہو۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام مخالفین کے ان اعتراضوں کا ذکر کر کے کہ ان کتابوں کی عربی زبان فصیح نہیں اور یہ کہ وہ عرب اور دوسرے ادیبوں کی لکھی ہوئی ہیں اور ایک عرب گھر میں پوشیدہ رکھا ہوا ہے وہی عرب صبح شام لکھ کر دیتا ہے فرماتے ہیں۔انظر الى اقوالهم وتناقض سلب العناد اصابة الاراء طورا الى عرب عزوه و تارة قالوا كلام فاسد الاملاء هذا من الرحمن يا حزب الاعداء لا فعل شامی ولا رفقائی انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۲۷۵) یعنی ان باتوں کو دیکھو اور ان کے تناقض پر غور کرو۔عناد سے کچی اور اصابت رائے ان سے سلب ہوگئی ہے۔کبھی تو میرے کلام کو عرب سے منسوب کرتے ہیں اور کبھی کہتے ہیں کہ کلام اچھا نہیں اور غیر فصیح اور غلطیوں سے پر ہے۔سواے گروہ دشمنان۔سنو! یہ رحمن خدا کی توفیق و تائید سے لکھا گیا ہے نہ یہ کسی شامی عرب کا کام ہے اور نہ میرے رفیقوں کا “