حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 84
84 میں موسیٰ اور عیسی سب چور ہی تھے۔یہ تو انبیاء علیہم السلام پر شک کئے ہیں مگر دوسرے ادیوں اور شاعروں پر نہایت قابل شرم الزام لگائے گئے ہیں۔متنبی جو ایک مشہور شاعر ہے اس کے دیوان کی نسبت ایک شخص نے ثابت کیا ہے کہ وہ دوسرے شاعروں کی شعروں کا سرقہ ہے۔غرض سرقہ کے الزام سے کوئی نہیں بچا۔نہ خدا کی کتا بیں اور نہ انسانوں کی کتابیں۔اب تنقیح طلب امر یہ ہے کہ کیا در حقیقت ان کے یہ الزامات صحیح ہیں؟ اس کا جواب یہی ہے کہ خدا کے ملہموں اور وحی یا بوں کی نسبت ایسے شبہات دل میں لانا تو بدیہی طور پر بے ایمانی ہے اور لعنتیوں کا کام۔کیونکہ خدا تعالیٰ کے لئے کوئی عار کی جگہ نہیں کہ بعض کتابوں کی بعض عبارتیں یا بعض فقرات اپنے ماہموں کے دلوں پر نازل کرے۔بلکہ ہمیشہ سے سنت اللہ اس طرح پر جاری ہے۔رہی یہ بات کہ دوسرے شاعروں اور ادیبوں کی کتابوں پر بھی اعتراض آتا ہے کہ بعض عبارتیں یا اشعار بلفظیا تغیر ما بعض کی تحریرات میں پائے جاتے ہیں تو اس کا جواب ایک کامل تجربہ کی روشنی میں ملتا ہے یہی ہے کہ ایسی صورتوں کی بجز تو ارد کے ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔کیونکہ جن لوگوں نے ہزار ہا جزئیں اپنی بلیغ عبارت کی پیش کر دیں ان کی نسبت یہ ظلم ہوگا کہ اگر پانچ سات یا دس فقرات ان کی کتابوں میں ایسے پائے جائیں کہ وہ یا ان کے مشابہ کسی دوسری کتاب میں بھی ملتے ہیں تو ان کی ثابت شدہ صداقتوں کا انکار کر دیا جائے۔اسی طرح ان لوگوں کو انصاف سے دیکھنا چاہئے کہ اب تک ہماری طرف سے بائیس کتا بیں عربی فصیح و بلیغ میں بطلب مقابلہ تصنیف شائع ہو چکی ہیں اور عربی کے اشتہارات اس کے علاوہ ہیں۔اس قدر تصانیف عربیہ جو مضامین دقیقہ علمیہ