حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 81 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 81

81 العربيه۔من العبارات المحبرة۔والقصائد المبتكرة۔فليس خاطره ابا عذرها۔ولا قريحته صدف الاليها و دررهـا۔بل الفهـاجل من الشاميين۔واخـذ عـليه كثير من المال كالمستاجرين۔فليكتب الان بعد ذهابه ان كان من الصادقين۔(انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۱۳۲) ترجمہ۔پھر ان علماء کے اعتراضات اور شبہات میں سے جو انہوں نے جاہلوں میں پھیلا رکھے ہیں ایک یہ ہے کہ یہ شخص عربی کا ذرہ علم نہیں رکھتا بلکہ وہ تو فارسی زبان سے بھی کوئی حصہ نہیں دیا گیا اور اپنے متعلق سمجھتے ہیں کہ ہم متبحر علماء ہیں اور کہتے ہیں کہ اس نے جو عمدہ ، رنگین ، دلکش عبارات اور اچھوتے قصائد عربی زبان میں لکھے ہیں وہ اس کے اپنے نہیں بلکہ ایک شامی عرب نے تالیف کئے ہیں اور بہت سا مال اس کے عوض اجرت کے طور پر اس نے لیا ہے۔پس اگر وہ صادق ہے تو اس کے چلے جانے کے بعد اب لکھ کر دکھائے۔غلطیوں کے اعتراض کا جواب غلطیوں کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔” جو شخص عربی یا فارسی میں مبسوط کتابیں تالیف کرے گا ممکن ہے کہ حسب مقولہ قلما سلم مکتار کوئی صرفی یا خوی غلطی اس سے ہو جائے اور بباعث خطا نظر کے اس غلطی کی اصلاح نہ ہو سکے اور یہ بھی ممکن ہے کہ سہو کا تب سے کوئی غلطی چھپ جائے اور باعث ذہول بشریت مولف کی اس پر نظر نہ پڑے۔“ (کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلدے صفحہ ۱۷) مولوی بٹالوی صاحب کو جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔" ان كتبى مبراة مما زعمت ومنزهة عما ظننت۔الا سهو الكاتبين۔