چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 68 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 68

68 کی دلدل میں پھنسے رہنے کا ایک بہانہ حاصل کر لیتا ہے کیونکہ جھوٹ کے ذریعہ گناہ پر پردہ ڈالا جاتا ہے اور پھر اس پردہ کی اوٹ میں گناہ بڑھتا اور پھلتا چلا جاتا ہے۔پس جھوٹ صرف اپنی ذات میں ہی گناہ نہیں ہے بلکہ دوسرے گناہوں کے واسطے ایک بدترین قسم کا سہارا بھی ہے۔اسی لئے آنحضرت صلی الی ایم نے جھوٹ کو شرک اور عقوق والدین کے بعد سب سے بڑا گناہ قرار دیا ہے۔ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ ایک مسلمان نے آپ سے عرض کیا۔یا رسول اللہ ! میرا نفس کمزور ہے اور میں بہت سی کمزوریوں میں مبتلا ہوں اور میں سارے گناہوں کو یک دم چھوڑنے کی ہمت نہیں پاتا۔آپ مجھے ہدایت فرمائیں کہ میں سب سے پہلے کس گناہ کو چھوڑوں ؟ آپ نے فرمایا۔”جھوٹ بولنا چھوڑ دو“۔اس نے اس کا وعدہ کیا اور گھر واپس آگیا۔پھر جب وہ اپنی عادت کے مطابق بعض دوسرے گناہوں کا ارتکاب کرنے لگا تو اسے خیال آیا کہ اب اگر رسول اللہ تک میری یہ بات پہنچی اور آپ نے مجھ سے پوچھا تو جھوٹ تو بہر حال میں نے بولنا نہیں میں آپ کو کیا جواب دوں گا؟ یا اگر کسی مسلمان کو میری کسی کمزوری کا علم ہوا تو اس کے سامنے میں اپنے اس گناہ پر کس طرح پردہ ڈالوں گا؟ آخر اسی میں اس نے سوچتے سوچتے فیصلہ کیا کہ جب چھوڑ دیا ہے تو اب یہی بہتر ہے کہ سارے گناہوں سے ہی اجتناب کیا جائے۔چنانچہ وہ جھوٹ چھوڑنے کی برکت سے سب گناہوں سے نجات پا گیا۔پس آنحضرت صلی ا ہم نے کمال حکمت سے جھوٹ کے گناہ کو شرک اور عقوق والدین کے گناہوں کے بعد سب سے بڑا گناہ قرار دے کر مسلمانوں کی اصلاح کا ایک ایسا نفسیاتی نکتہ بیان 1 : ربيع الابرار، الباب الحادى و السبعون ، الكذب والزور۔۔۔۔۔روایت نمبر 2 ، جلد 4 ، صفحہ 339