چالیس جواہر پارے — Page 67
67 عزت کے ساتھ بٹھایا۔الغرض اسلام نے والدین کی اطاعت اور خدمت کے متعلق انتہائی تاکید فرمائی ہے حتی کہ قرآن شریف فرماتا ہے۔وَاخْفِضُ لَهُمَا جَنَاحَ اللَّهِ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ ربِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّينِي صَغِيرًا 2 یعنی تم اپنے ماں باپ کے سامنے عاجزی اور انکساری کے بازوؤں کو محبت اور رحمت کے ساتھ جھکائے رکھو اور ان کے لئے ہمیشہ خدا سے دعا مانگتے رہو کہ خدایا! جس طرح میرے والدین نے مجھے بچپن میں جبکہ میں بالکل بے سہارا تھا محبت اور شفقت کے ساتھ پالا اسی طرح اب تو ان کے بڑھاپے میں ان پر شفقت ورحم کی نظر رکھ۔“ تیسر ابڑا گناہ اس حدیث میں جھوٹ بولنا بیان کیا گیا ہے اور اس کے متعلق اسلام کا لمر یہ اس حدیث کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ جب آپ جھوٹ کا ذکر فرمانے لگے تو جوش کے ساتھ اٹھ کر بیٹھ گئے اور ان الفاظ کو بار بار دہرایا کہ أَلَا وَقَوْلُ الزُورٍ - أَلَا وَقَوْلُ النُّورِ یعنی کان کھول کر سن لو۔ہاں پھر کان کھول کر سن لو کہ شرک اور عقوق والدین کے بعد سب سے بڑا گناہ جھوٹ بولنا ہے۔“ حق یہ ہے کہ اگر باقی باتیں اس بیج کا حکم رکھتی ہیں جن سے گناہ کا درخت پیدا ہو تا ہے تو جھوٹ اس پیج کے واسطے پانی کے طور پر ہے جس کی وجہ سے یہ درخت پنپتا اور ترقی کرتا ہے۔یہ جھوٹ ہی ہے جس کی وجہ سے گناہ پر دلیری پید اہوتی اور انسان گناہ 1 سنن ابو داؤد کتاب الادب، ابواب النوم ، باب في بر الوالدين 2 :بنی اسرائیل: 25