چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 18 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 18

18 خرچ کیا جاتا ہے۔نماز کی غرض و غایت خدا تعالیٰ سے ذاتی تعلق پیدا کرنا اور اس کی یاد کو اپنے دل میں تازہ رکھنا اور اس کے ذریعہ اپنے نفس کو فحشاء اور منکرات سے پاک کرنا اور خدا سے اپنی حاجتیں طلب کرنا ہے اور آنحضرت صلی اللہ نام کے ایک ارشاد کے مطابق کامل نماز وہ ہے جس میں نماز پڑھنے والا اس وجد ان سے معمور ہو کہ میں خدا کو دیکھ رہا ہوں یا کم از کم یہ کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے۔نماز کے اوقات میں انسانی زندگی کے مختلف حصوں کی طرف لطیف اشارہ رکھا گیا ہے اور اسی لئے دن کے آخری حصہ میں جب رات کی تاریکی قریب آرہی ہوتی ہے نمازوں کے درمیانی وقفہ کو کم کر دیا گیا ہے تا کہ اس بات کی طرف اشارہ کیا جائے کہ عالم آخرت کی تیاری عمر کی زیادتی کے ساتھ تیز سے تیز تر ہوتی چلی جانی چاہیے۔نماز کی عبادت حقیقتا روحانیت کی جان ہے اور اسی لئے اسے مومن کا معراج قرار دیا گیا ہے اور نماز کے ساتھ آنحضرت علی ال مل کے ذاتی شغف اور ذاتی سرور کا یہ عالم تھا کہ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے وو جُعِلَتْ قُرْةُ عَيْنِي فِي الصَّلوة ا، یعنی نماز میں میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔(۲) دوسری عملی عبادت اسلام میں زکوۃ ہے جس کے معنی کسی چیز کو پاک کرنے اور بڑھانے کے ہیں۔زکوۃ کی بڑی غرض یہ ہے کہ ایک طرف امیروں کے مال میں سے غریبوں کا حق نکال کر اسے پاک کیا جائے اور دوسری طرف غریبوں اور بے سہارالوگوں کی امداد کا سامان مہیا کر کے قوم کے مقام کو بلند کیا جائے اور اس کے افراد کو اوپر اٹھایا جائے۔زکوۃ کا ٹیکس مال کا ضروری اور اقل حصہ چھوڑ کر زائد مال پر جسے شرعی اصطلاح میں نصاب 1 : سنن نسائی کتاب عشرۃ النساء باب حب النساء