چالیس جواہر پارے — Page 17
17 دونوں باتیں نہایت ضروری ہیں اور یہ جو ان دونوں حدیثوں میں خدا اور رسول پر ایمان لانے کو مشترک رکھا گیا ہے اس کی یہ وجہ ہے کہ پہلی حدیث میں تو ایمان باللہ اور ایمان بالرسول کو صرف دل کے عقیدہ اور زبان کی تصدیق کے اظہار کے لئے شامل کیا گیا ہے مگر دوسری حدیث میں وہ عمل کی بنیاد بننے کی حیثیت میں داخل کیا گیا ہے۔بہر حال موجودہ حدیث کی رو سے اسلام کی تعریف میں سب سے اول نمبر پر یہ بات رکھی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور آنحضرت صلی اللہ کم کی رسالت پر ایمان لایا جائے تاکہ ایک مسلمان کا ہر عمل اسی مقدس عقیدہ کی بنیاد پر قائم ہو کہ خدا ایک ہے اور محمد رسول اللہ صلی ال یکم اس کی طرف سے آخری شریعت لانے والے نبی ہیں۔اس کے بعد چار عملی عباد تیں گنائی گئی ہیں جو یہ ہیں۔(۱) پہلی عبادت صلوۃ یعنی نماز ہے جس کے معنی عربی زبان میں دعا اور تسبیح و تحمید کے ہیں۔نماز دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں پانچ نمازوں کی صورت میں فرض کی گئی ہے اور جسمانی طہارت یعنی مسنون وضو کے بعد مقررہ طریق پر ادا کی جاتی ہے۔ان پانچ نمازوں میں سے ایک صبح کی نماز ہے جو صبح صادق کے بعد اور سورج نکلنے سے پہلے پڑھی جاتی ہے۔دوسرے ظہر کی نماز ہے جو سورج کے ڈھلنے یعنی دو پہر کے بعد پڑھی جاتی ہے۔تیسرے عصر کی نماز ہے جو سورج کے کافی نیچا ہو جانے کے وقت پڑھی جاتی ہے۔چوتھے مغرب کی نماز ہے جو سورج کے غروب ہونے کے بعد پڑھی جاتی ہے اور پانچویں عشاء کی نماز ہے جو شفق کے غائب ہونے کے بعد پڑھی جاتی ہے۔اس طرح نہ صرف دن کے مختلف اوقات کو بلکہ رات کے ہر دو کناروں کو بھی خدا کے ذکر اور خدا کی عبادت اور خدا سے اپنی دعاؤں کی طلب میں