چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 19 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 19

19 کہتے ہیں لگایا جاتا ہے۔یہ ٹیکس چاندی، سونے اور چاندی سونے کے زیورات اور چاندی سونے کے سکوں (جن میں کرنسی نوٹ بھی شامل ہیں) اڑھائی فیصد سالانہ کے حساب سے مقرر ہے مگر یاد رکھنا چاہیے کہ سونے کا علیحدہ نصاب مقرر نہیں ہے بلکہ چاندی کے نصاب کی قیمت کی بنیاد پر ہی سونے کے نصاب کا فیصلہ کیا جائے گا جو لازماً ان دو دھاتوں کی نسبتی قیمت کے لحاظ سے بڑھتا گھٹتار ہے گا۔تجارتی مال پر بھی اڑھائی فی صد سالانہ کی شرح مقرر کی گئی ہے۔زرعی زمینوں اور باغات کی فصل پر بارانی فصل کی صورت میں دسواں حصہ اور مصنوعی آبپاشی کی صورت میں بیسواں حصہ زکوۃ مقرر ہے۔بھیڑ بکریوں کی صورت میں قطع نظر تفصیلات کے ہر چالیس بکریوں سے لے کر ایک سو میں بکریوں تک پر ایک بکری اور گائے اور بھینسوں کی صورت میں تیں جانوروں پر ایک بچھڑا اور اونٹوں کی صورت میں ہر پانچ اونٹوں پر ایک بکری اور چھپیں اونٹوں پر ایک جوان اونٹنی مقرر ہے اور زمین کی کانوں اور دفینوں اور بند خزانوں پر بیس فیصد یک مشت کی شرح سے زکوۃ لگتی ہے اور پھر زکوۃ کی یہ سب آمدنی فقراء اور مساکین کے علاوہ مقروضوں اور مسافروں اور غلاموں اور مؤلفۃ القلوب لوگوں اور دینی مہموں میں حصہ لینے والوں اور زکوۃ کا انتظام کرنے والے عملہ پر خرچ کی جاتی ہے۔اس طرح زکوۃ قومی دولت کو سمونے کا بھی ایک بڑا ذریعہ ہے۔(۳) تیسری عملی عبادت حج ہے۔حج کے معنی کسی مقدس مقام کی طرف سفر اختیار کرنے کے ہیں اور اسلامی اصطلاح میں اس سے مراد مکہ مکرمہ میں جاکر خانہ کعبہ اور صفا و مروہ کی پہاڑیوں کا طواف کرنا اور پھر مکہ سے نومیل پر عرفات کے تاریخی میدان میں وقوف کر کے