بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 543 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 543

برگزیدہ کرنے میں کبھی نہیں تھکا اور نہ تھکے گا۔“ (تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 29) پس یہ اس سلسلہ کا وہ آخری ہزار سال ہے جس میں خدا تعالیٰ نے آنحضور الم کی پیشگوئیوں کے عین مطابق آپ کے روحانی فرزند اور غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خَاتَمُ الْخُلفاء کے طور پر مبعوث فرمایا۔آنحضور یتیمی کی پیشگوئیوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات سے یہی مستنبط ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے چونکہ یہ آخری ہزار سال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ قائم ہونے والی خلافت احمد یہ حقہ اسلامیہ کا دور ہے۔اس لئے اگر کسی وقت دنیا کی اصلاح کے لئے کسی مصلح کی ضرورت پڑی تو اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی کے متبعین میں سے کسی ایسے شخص کو دنیا کی اصلاح کے لئے کھڑا کرے گا جو وقت کا خلیفہ ہو گا لیکن خلیفہ سے بڑھ کر آپ کا مثیل اور مصلح ہونے کا مقام بھی اسے عطاء ہو گا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دی جانے والی بشارتوں کے عین مطابق حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اس مقام پر فائز فرمایا تھا۔چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس موعود خلافت کے مقام کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”پھر صرف خلافت کا سوال نہیں بلکہ ایسی خلافت کا سوال ہے جو موعود خلافت ہے۔الہام اور وحی سے قائم ہونے والی خلافت کا سوال ہے۔ایک خلافت تو یہ ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ لوگوں سے خلیفہ منتخب کراتا ہے اور پھر اسے قبول کر لیتا ہے مگر یہ ویسی خلافت نہیں۔یعنی میں اس لئے خلیفہ نہیں کہ حضرت خلیفہ اول کی وفات کے دوسرے دن جماعت احمدیہ کے لوگوں نے جمع ہو کر میری خلافت پر اتفاق کیا بلکہ اس لئے بھی خلیفہ ہوں کہ خلیفہ اول کی خلافت سے بھی پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا تعالیٰ کے الہام سے فرمایا تھا کہ میں خلیفہ ہوں گا۔پس میں خلیفہ نہیں بلکہ موعود خلیفہ ہوں۔میں مامور نہیں مگر میری آواز خدا تعالیٰ کی آواز ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اس کی خبر دی تھی۔گویا اس خلافت کا مقام 543